خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 617 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 617

خطبات ناصر جلد دوم ۶۱۷ خطبہ جمعہ ۹ رمئی ۱۹۶۹ء کے مطابق بنائے جائیں، کیونکہ دین کے معنے سیرت کے ہوتے ہیں۔غیر اللہ کے اخلاق کا کوئی بدنما داغ اپنی سیرت کی نورانی چادر پر نہ لگنے دو۔تمہاری زندگی میں جن اخلاق کا بھی مظاہرہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کے اخلاق کا پر تو اور عکس ہو ، اپنی قوت اور استعداد کے مطابق اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کا رنگ چڑھانے کی کوشش کرو۔مُخْلِصِينَ لَهُ الدّین میں عبادت صحیحہ کا جو چوتھا تقاضا بتایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ سب تقویٰ اور زہد و تعبد اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو۔کیونکہ دین کے معنے ورع کے بھی ہوتے ہیں اور پانچویں ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت اللہ تعالیٰ کے بندوں پر یہ ڈالتی ہے کہ جس جس حلقہ میں انہیں اختیار اور حکومت حاصل ہو ، حکومت کے معنے صرف ملک کی حکومت کے نہیں ہوتے بلکہ خاندان کا ایک حاکم ہے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے راعی قرار دیا ہے۔ہر انسان کا ایک دائر ک اثر ہوتا ہے جس میں اس کی مرضی چلتی ہے۔تو فرمایا جس جس دائرہ اثر میں تمہاری مرضی چلتی ہو تم یہ کوشش کرو کہ اس دائرہ اثر میں تمہاری مرضی نہ چلے بلکہ تمہارے اللہ کی مرضی چلے۔ہوائے نفس کو یا اللہ کے غیر کو خوش کرنے کے لئے کوئی کام نہ کیا جائے ، کوئی حکم نہ دیا جائے، کوئی ہدایت نہ ہو۔دین کے چھٹے معنے میں نے یہ بتائے تھے کہ تمہاری عادات بھی ایسی ہوں کہ ان کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔ماحول کے بداثرات بد عادات پیدا کر دیتے ہیں اس لئے ماحول کے بداثرات سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بچو اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے ماتحت اور اس کی خوشنودی کے حصول کے لئے اپنے میں اچھی عادتیں پیدا کرو اور انہیں پختہ کرنے کی کوشش کرو۔ساتواں حکم یہ ہے کہ جب تمہیں غلبہ مل جائے تو غلبہ اور طاقت کا استعمال احکام الہی کی روشنی میں ہو اور آٹھویں یہ کہ یہ زندگی تدابیر کا مجموعہ ہے۔بہت سی چیزیں ہیں جنہیں ہم عادتاً کرتے ہیں اور ان کو تدبیر نہیں سمجھتے۔گرمیوں کے دنوں میں یہ بھی ایک تدبیر ہے کہ ہم رات کو باہر پانی کا گھڑا رکھتے ہیں تاکہ ہمیں صبح نسبتاً ٹھنڈا پانی مل جائے۔لیکن یہ ایسی عادت ہے کہ کسی سے بات کرو تو وہ کہے گا یہ بھی کوئی تدبیر ہے لیکن ہر کام جو ہم کرتے ہیں دراصل وہ تدبیر ہے کیونکہ اس سے مستقبل میں ایک نتیجہ نکلتا ہے۔مثلاً گھر والی صبح اٹھ کر ناشتہ تیار کرتی ہے یہ بھی ایک تدبیر ہے