خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 436
خطبات ناصر جلد دوم ۴۳۶ خطبه جمعه ۲۰ /دسمبر ۱۹۶۸ء محبت کا وہ ہم سے اظہار کرتا ہے اس کا جواب اسی قسم کی محبت سے دیں انسان بشری کمزوریوں سے تو بچ نہیں سکتا لیکن اپنے ماحول میں جس قدر پیار کسی سے کر سکتا ہے جس قدر محبت وہ کسی سے کر سکتا ہے وہ سب سے زیادہ پیار اور محبت شکر کے طور پر اپنے رب سے کرے چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی ہے اور پھر ہدایت کے ساتھ ہماری سہولتوں اور آسانیوں کا خیال رکھا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم کسی موقع پر بھی کمزوری نہ دکھا ئیں اور اس کی حمد کرتے ہوئے ان سہل راستوں پر جو مستقیم راستے ہیں اس کے قرب کی طرف بڑھتے چلے جائیں (صراط مستقیم ہی ایک سہل راستہ ہے کیونکہ جو چکر اور بل کھاتا ہوا راستہ ہے وہ سہل نہیں ہوا کرتا جو راستہ ایک میل مسافت طے کرانے کی بجائے دس میل کی مسافت طے کرا کے منزلِ مقصود تک پہنچاتا ہے وہ سہل نہیں ہوسکتا )۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں چونکہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہوں اس لئے میں نے تمہارے لئے ایک صراط مستقیم بنا دیا ہے اور اس راستہ پر بھی جگہ بہ جگہ تم ایسے احکام پاؤ گے کہ جو تمہاری سہولت کا سامان پیدا کر دیں گے تم اس راستہ پر چلتے ہوئے رمضان کے روزے رکھو گے تو تمہارے کانوں میں تمہارے رب کی نہایت ہی محبت بھری آواز آئے گی کہ اگر تم سفر پر ہو تو روزہ نہ رکھنا میں تمہاری سہولت کے سامان پیدا کرنا چاہتا ہوں اگر مریض ہو ( طبیعت بہانہ جو نہ ہو ) انسان واقعہ میں مریض ہوا اور ڈاکٹر کہتا ہو کہ روزہ تمہاری صحت کو مستقل طور پر خراب کر دے گا یا تم اس روزے کو برداشت نہیں کر سکتے یا تمہارے لئے مثلاً ہر دو یا تین گھنٹے کے بعد دوا کھانا ضروری ہے تو تم روزے نہ رکھو پھر بعض ایسے مریض بھی ہوتے ہیں جن کو ڈاکٹر کہتا ہے کہ ہر دو گھنٹہ یا تین گھنٹہ کے بعد تم کچھ کھاؤ اور نہ تم مر جاؤ گے ان کی کانسٹی ٹیوشن (Constitution) یعنی جسم کی بناوٹ ایسی ہوتی ہے کہ ان کے معدہ میں غذا نہیں رہتی یہ مستقل نیم بیماری کی قسم ہے ان کو تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کھانے کی ضرورت پڑتی ہے ایسے مریضوں کو ڈاکٹر کہے گا کہ اگر تم نے اپنی صحت کو برقرار رکھنا ہے اور خود اپنے آپ کو جسمانی طور پر ہلاکت میں نہیں ڈالنا تو تمہیں ہر دو تین گھنٹہ کے بعد کچھ کھانا چاہیے پھر بعض بیماریاں ایسی ہیں جن میں خون کی شکر کم ہو جاتی ہے اور اگر وہ شکر جسم کو نہ