خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 437
خطبات ناصر جلد دوم ۴۳۷ خطبه جمعه ۲۰ ؍دسمبر ۱۹۶۸ء ملے تو انسان بے ہوش ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ موت واقع ہو جاتی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ ایسے لوگ بعض دفعہ آدھ آدھ گھنٹہ کے بعد میٹھے کی طرف دوڑتے ہیں کیونکہ جسم میٹھا مانگ رہا ہوتا ہے وہ کہتا ہے کہ مجھے میٹھا دو ورنہ میں گیا ایسے شخص کو خدا کہتا ہے کہ تم رمضان میں روزہ نہ رکھو اور اس لئے روزہ نہ رکھو کہ تمہارے لئے یہ سیدھا راستہ ہم نے ہلاکت اور سختی اور تنگی پیدا کرنے کے لئے نہیں بنایا بلکہ سہولت اور آسانی کے لئے بنایا ہے ہم اپنے پیار کی وجہ سے جو سہولتیں تمہیں دے رہے ہیں ان کو پیار اور شکر اور حمد کے ساتھ قبول کرو اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تم نا شکر گزار ہو جاؤ گے۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے ایک مسافر کے کتنے حقوق قائم کئے ہیں اور جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے کہا ہے کہ جو اموال بھی تم میری راہ میں میری رضا کے حصول کے لئے خرچ کرو ان میں مسافر کا بھی حق ہے تم اس حق کو ادا کرو اور صرف اس کا حق ہی ادا نہ کرو بلکہ اس پر احسان کرو اور یہ وہ مسافر ہے جو میرا یا تمہارا مہمان بنتا ہے ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس مسافر کا کیا حق ہو گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کا مہمان بنتا ہے۔اس کے حقوق تو ایک عام مسافر سے بہر حال زیادہ ہوں گے اب ان حقوق کی ادائیگی کا ایک موقع جلسہ سالانہ پر آ رہا ہے۔میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر اپنے بچپن کے زمانہ میں جذبہ خدمت کے نہایت حسین نظارے دیکھے ہیں ایک دو نظارے میں نے دوستوں کے سامنے ایک دفعہ بیان بھی کئے تھے نظارے اتنے حسین ہیں کہ انہیں بار بار بیان کرنا چاہیے تا ہماری جو چھوٹی پور ہے نئی نسل ہے ان کو بھی پتہ لگے کہ مہمان کی خدمت کیسے کی جاتی ہے؟ ایک دفعہ میں بہت چھوٹی عمر کا تھا مدرسہ احمدیہ کی چوتھی جماعت میں داخل ہوا تھا یا شاید پانچویں جماعت میں ہوں گا یعنی یہ قرآن کریم حفظ کرنے کے معا بعد کی بات ہے ہمارے چھوٹے ماموں جان ( حضرت میر محمد اسحاق صاحب ) افسر جلسہ سالا نہ ہوا کرتے تھے آپ ہماری تربیت کی خاطر ہمیں اس عمر میں اپنے ساتھ لگا لیتے تھے آپ ہر لحاظ سے ہمارا خیال بھی رکھتے تھے اور پورا وقت ہم سے کام بھی لیتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ رات کے گیارہ گیارہ بجے تک آپ ہم سے کام لیتے تھے چاہے وہ دفتر میں بٹھائے رکھنے کا