خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 435 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 435

خطبات ناصر جلد دوم ۴۳۵ خطبه جمعه ۲۰/دسمبر ۱۹۶۸ء کی رضا کے حصول کے لئے اس راہ میں خرچ کرتے ہو ان میں مسافروں کا بھی حق ہے یعنی اگر تم مسافر پر ان چیزوں کو خرچ کرو گے۔تو اس مسافر پر تمہاری طرف سے احسان نہیں ہوگا بلکہ یہ اس کا حق ہے جو تم ادا کر رہے ہو گے۔سورہ نساء کی ۳۷ ویں آیت میں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسافر کے ساتھ بہت احسان کا سلوک کرو اور سورۃ الاسراء کی ۲۷ ویں آیت میں تو اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو کھول کر بیان کر دیا ہے کہ مسافر کو اس کا حق دو اور اسراف کا رنگ اختیار نہ کرو جیسا کہ فرمایا۔وَاتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّةَ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَدِّرُ تَبْذِيرًا - (بنی اسرآءيل: ۲۷) یعنی اسراف سے ورے ورے مسافر کی ہر ضرورت کا خیال کرو یہ تو نہیں کہ مسافر کی خاطر اور اس کی خدمت میں خدا تعالیٰ کے دوسرے احکام کو انسان بھول جائے اسراف سے ڈرے ڈرے، ہر خدمت جو ممکن ہو سکتی ہے وہ مسافر کی کرو۔غرض اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزوں کا حکم دینے کے بعد فرمایا کہ دیکھو جب تم سفر میں ہوتے ہو تو ہم نے تمہارے لئے کس قدر آرام کا ماحول پیدا کیا ہے ہم نے تمہارے بھائیوں کو کہا ہے کہ تم ہماری محبت کی وجہ سے اور ہماری رضا کے حصول کے لئے جو اموال خرچ کرتے ہوان میں مسافر کا بھی حق ہے ہم نے اس خرچ کو تمہارا حق قرار دیا ہے اور تمہارے بھائیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ تمہاراحق تمہیں ادا کیا جائے پھر یہی نہیں کہ تمہارا حق ادا کیا جائے بلکہ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ حق سے زائد دو، احسان کرو اور بہت احسان کرو اور اس قدر احسان کرو کہ اسراف۔ورے ورے ہر ممکن خدمت اس کی بجالا ؤ۔ان تمام باتوں کے باوجود ہم یہ کہتے ہیں کہ پھر بھی سفر میں تمہیں تمہارے جیسی سہولت نہیں ملے گی ہم تمہارے لئے سہولت چاہتے ہیں اس لئے ہم نے تمہیں اجازت دے دی ہے اور کہا ہے کہ رمضان کے روزے سفر کی حالت میں نہ رکھا کر واب دیکھو یہ کتنی پیاری تعلیم ہے اور کس قدر محبت کا اظہار ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہم سے کیا ہے۔اس محبت اور پیار کے اظہار کی وجہ سے ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ایک تو ہم ہر وقت خدا تعالیٰ کی حمد کرتے رہیں خدا تعالی کی کبریائی ہر آن بیان کرتے رہیں اور دوسرے خدا تعالیٰ کی کامل صفات کو ہر وقت اپنے تصور میں رکھیں اور جس