خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 387
خطبات ناصر جلد دوم ۳۸۷ خطبہ جمعہ ۸/نومبر ۱۹۶۸ء پر تو گل کر جو خود زندہ ہے اور سب زندگی اور حیات اس کی کامل حیات سے فیض یافتہ ہے اگر اس کی اس صفت کا جلوہ نہ ہو تو کوئی وجود زندہ نہیں رہ سکتا اور یہ خطرہ نہیں کہ کبھی وہ مرجائے وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ (الفرقان : ۵۹) وہ انکی ہے موت اس پر آ ہی نہیں سکتی۔پھر فرمایا اگر تم نے اللہ پر توکل کرنا ہے تو پھر تمہیں اس کی عبادت میں مشغول رہنا پڑے گا اس کی تسبیح و تحمید میں مشغول رہنا پڑے گا تم اسی پر توکل رکھو اور یہ سمجھ کر رکھو کہ اسی کی ذات الحی ہے تمام زندگی کا سر چشمہ اور منبع اسی کی ذات ہے زندگی کے لحاظ سے دنیا رنگ بدلتی رہتی ہے۔اس دنیا کی زندگی تو گزر جاتی ہے اور موت انسان پر وارد ہو جاتی ہے پھر وہ انکی خدا ایک نئی زندگی اسے دیتا ہے پھر روحانی طور پر لوگ یہاں مرجاتے ہیں ان میں روحانیت باقی نہیں رہتی تو وہ انکی خدا ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ انسان اس میں ہو کر اور اس سے زندگی حاصل کر کے نئے سرے سے روحانی زندگی پالیتا ہے پس فرمایا اگر تم نے تو گل کرنا ہے اور تمہیں ضرور تو گل کرنا پڑتا ہے اس کے بغیر چارہ ہی نہیں (جیسا کہ میں نے بتایا ہے ) تو الحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ پر توکل کرو یعنی اس زندہ ہستی پر توکل کرو جس پر موت وارد نہیں ہوتی۔پھر ہمیں دنیوی سہاروں میں یہ عیب نظر آتا ہے کہ وہ سہارا دینا چاہتے ہیں اور کام بھی کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ سہارا دینے اور کام کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔اس کی طاقت اور قدرت ان میں نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ (الشعر آء :۲۱۸) میں غالب ہوں مجھے ہر قسم کی قدرتیں حاصل ہیں میں ایک بات کا فیصلہ کرلوں تو دنیا کی کوئی طاقت میرے اس فیصلہ کو رد نہیں کر سکتی میرا ہی حکم جاری ہے پھر دنیا دار انسان سو دفعہ خوشامد کرتا ہے۔دس بار خوشامدوں کا نتیجہ نکل آتا ہے باقی ضائع ہو جاتی ہیں وہ تو بار بار دنیا کے سہاروں کی طرف جھکتا ہے لیکن دنیا کے سہارے بار بار اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں ایسا نہیں ہوں میں جہاں عزیز ہوں وہاں الرحیم بھی ہوں جتنی دفعہ تم میرے سامنے آؤ گے اتنی ہی دفعہ تم مجھ سے فیض حاصل کرو گے صرف خلوص نیت ہونا چاہیے اور تو کل اپنی پوری شرائط کے ساتھ کیا جائے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم مجھ پر بھروسہ کرو گے تو جو سہارا تمہیں ملے گا وہ حکمت سے