خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 388
خطبات ناصر جلد دوم ۳۸۸ خطبه جمعه ۸ / نومبر ۱۹۶۸ء خالی نہیں ہوگا وَ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمُ (الانفال: ۵۰) تمہارا بھروسہ اس اللہ پر ہوگا جو حکیم ہے اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ انسان بعض دفعہ غلط دعا کرتا ہے اور اسے یہ نظر آتا ہے کہ اس کی وہ دعا قبول نہیں ہوئی لیکن حقیقتاً اس کی وہ دعا قبول ہو چکی ہوتی ہے کیونکہ دعا سننے والا حکیم ہے وہ حکمت کا ملہ کے نتیجہ میں دعا کو سنتا ہے وہ جانتا ہے کہ جو دعا اس شخص نے مانگی تھی وہ آخر فائدہ مند اور سود مند نہیں ہونی تھی اس لئے اس نے اسے ظاہری شکل میں رڈ کر دیا لیکن اس مقصد کے حصول کے لئے جس کے لئے دعا کی گئی تھی اس نے کچھ ایسے سامان پیدا کر دیئے جو اس کے لئے زیادہ مفید تھے غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم میری طرف آؤ، مجھ پر بھروسہ رکھو، اگر تم مجھ پر بھروسہ رکھو گے تو میں تمہیں جو سہارا دوں گا وہ حکیم اللہ کا سہارا ہو گا وہ بے حکمت سہارا نہیں ہوگا، وہ بعد میں بدنتائج پیدا کرنے والا نہیں ہوگا، وہ عارضی خوشیوں کے بعد دکھوں میں مبتلا کرنے والا نہیں ہوگا۔میں نے بتایا تھا کہ دنیوی سہاروں میں ہمیں یہ نقص نظر آتا ہے کہ ان میں علم کامل نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے وہ سہارے ناقص ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سورۃ اعراف میں فرماتا ہے۔وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ انْتَ خَيْرُ الْفَيحِينَ (الاعراف: ۹۰) کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے کوئی چیز ظاہری یا باطنی لحاظ سے اور اس کے علم سے بالا نہیں یعنی اس کا جو ظاہر ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور ان باطنی قوتوں اور استعدادوں کو بھی وہ جانتا ہے جو بے شمار ہیں اور ایسی ہیں کہ انسان کو ان کا علم ہی نہیں صرف چند گنتی کی باتیں ہیں کہ جن کا علم انسان نے اپنی کوشش کے نتیجہ میں اور اللہ تعالیٰ سے فیض حاصل کر کے حاصل کر لیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہر چیز اس کے علم کے اندر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم نے کسی ہستی پر تو گل کرنا ہو تو تمہیں اس ہستی پر تو گل کرنا چاہیے جو کامل علم کی مالک اور ہر علم کا سر چشمہ اور منبع ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات الْعَلِیمُ ہے وَسِعَ رَبُّنَا كُل شَيْءٍ عِلْمًا ہر چیز اس کے علم کی وسعتوں کی چادروں میں لپٹی ہوئی ہے علی اللہ توكلنا اس لئے ہم اسی پر توکل کرتے ہیں چونکہ ہم ناقص علم کے نتیجہ میں غلط سہارے ڈھونڈتے