خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 386
خطبات ناصر جلد دوم پھر فرمایا۔۳۸۶ خطبہ جمعہ ۸/نومبر ۱۹۶۸ء 66 قُلْ هُوَ الرَّحْمَنُ أَمَنَّا بِهِ وَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا (الملك :۳۰) اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ایسی ہے کہ وہ احسان کرتے ہوئے یہ نہیں دیکھتا کہ جس پر وہ احسان کر رہا ہے اس نے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا ہے یا نہیں ( گو اس پر تو احسان کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہ کامل صفات والی ذات ہے اس کو کسی چیز کی کمی نہیں ) اس کے اندر استحقاق پایا جاتا ہے یا نہیں پایا جاتا اگر انسان کے اندر کوئی خامی اور کمزوری ہو، اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ادا پسند آ جائے تو وہ کمزوری اور خامی دور ہو جاتی ہے ایسا شخص مغفرت کی چادر میں لپیٹ لیا جاتا ہے اور بغیر کسی استحقاق کے اللہ تعالیٰ اس کو اتنی نعمتیں عطا کرتا ہے کہ وہ عاجز بندہ اس کی طرف جھکتا ہی چلا جاتا ہے اور اس کے راستہ میں فنا ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَلَيْهِ توكلنا تم یہ کہہ دو کہ ہم نے اپنے رحمان خدا پر ہی تو کل کیا ہے۔ہمارا یہ دعویٰ کہ کامیاب اسلام نے ہی ہونا ہے، کامیاب مسلمانوں نے ہی ہونا ہے ہماری کسی خوبی کے نتیجہ میں نہیں فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَللٍ مُّبِينٍ ( الملك :۳۰) یہ سب کچھ رحمان خدا کی رحمت کے نتیجہ میں ہو گا اور چونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ اسلام غالب آئے اس لئے بہر حال یہ فیصلہ جاری ہوگا۔اگر کسی نے بھروسہ کرنا ہے اور اس کے بغیر یہ زندگی گزر نہیں سکتی تو تمام عارضی اور ناقص اور بے و فاسہاروں کی بجائے اللہ تعالیٰ پر اسے بھروسہ کرنا چاہیے جو رحمان ہے وہ اسے اتنی نعمتیں دے گا کہ ان کے مقابلہ میں اس نے کچھ بھی کیا نہیں ہوگا۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں کامل حیات کا مالک یعنی انکی ہوں، مجھ پر موت وارد نہیں ہوتی اگر تم مجھ پر توکل کرو گے اور مجھے اپنا سہارا بنا لو گے تو تمہیں یہ خوف نہیں ہو گا کہ جسے تم نے سہارا بنایا ہے وہ کہیں مر نہ جائے یا ان ویلڈ (Invalid) نہ ہو جائے۔بعض دفعہ ایسی بیماری آتی ہے کہ انسان کے ہاتھ پاؤں کام نہیں کرتے یا بعض دفعہ مثلاً انسان پاگل ہو جاتا ہے پس گواس دنیا کی زندگی کامل زندگی نہیں لیکن اس ناقص زندگی کا نسبتی طور پر جو کمال ہے وہ بھی باقی نہیں رہتا۔غرض الحی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے پس اے انسان! تو اسی پر توکل کر تَوَكَّلُ عَلَيْهِ۔تو اس ذات