خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 370
خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۶۸ء ایک بڑی اور اہم چیز یہ ہے کہ ہمیں تاکیدی حکم ہے کہ غیر کے مال میں وہ منقولہ ہو یا غیر منقولہ اس کی اجازت کے بغیر تصرف نہ کریں اور اس سے استفادہ نہ کریں۔غیر کے مال سے استفادہ کرنے کے لئے اس کی اجازت ضروری ہے مثلاً تجارت ہے اس میں بیچنے والے اور خرید نے والے ہر دو نے ایک دوسرے کے اموال سے فائدہ اُٹھانا ہوتا ہے۔بیچنے والا خریدار کے روپیہ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور خریدنے والا بیچنے والے کی اس چیز سے فائدہ اُٹھانا چاہتا ہے جو اس نے خریدی ہے مثلاً اگر اس نے گندم خریدی ہے تو وہ گندم سے فائدہ اُٹھانا چاہتا ہے اور بیچنے والا خریدار کے روپیہ سے فائدہ اُٹھانا چاہتا ہے کیونکہ وہ نفع لے گا اور آگے اس کی اور گندم خریدے گا پھر بعض زمینیں لوگ کرایہ پر لے لیتے ہیں اور اس طرح مالک اور کرایہ دار دونوں ایک دوسرے سے فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں بعض دفعہ جماعتی نظام کو کسی فردِ جماعت کی زمین سے استفادہ کی ضرورت ہوتی ہے تو جماعتی نظام جہاں تک مجھے علم ہے مالک سے ہمیشہ اجازت لیتا ہے مثلاً میں بڑا لمبا عرصہ خدام الاحمدیہ کا صدر رہا ہوں قادیان میں کبھی دارالانوار میں اور کبھی دارالشکر میں ہمارے اجتماع ہوا کرتے تھے ہر دو محلوں کی کمیٹیاں تھیں دار الانوار کی بھی ایک کمیٹی تھی اور دارالشکر کی بھی ایک کمیٹی تھی ان محلوں کے کھلے میدانوں میں جہاں کوئی آبادی نہیں تھی نہ تو وہاں کوئی درخت تھا نہ کوئی اور چیز اس زمین کو اجتماع کے کیمپ سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا تھا لیکن اگر محلہ دارالانوار میں اجتماع ہونا ہوتا تو دار الانوار کی کمیٹی سے اور اگر دارالشکر میں اجتماع ہونا ہوتا تو دارالشکر کی کمیٹی سے باقاعدہ درخواست دے کر اجازت لی جاتی تب وہاں کیمپ لگایا جاتا۔اس کے لئے کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ کسی دوسرے کی چیز سے جو منقولہ ہو یا غیر منقولہ تم اس وقت تک استفادہ نہ کیا کرو جب تک (عَنْ تَرَاضِ مِنْهُمَا ) (البقرة : ۲۳۴) تم ایک دوسرے سے اجازت نہ لے لیا کرو۔یہاں میرے علم میں یہ بڑی دکھ دہ بات آئی ہے کہ بعض چھوٹے دکانداروں نے (ممکن ہے بعض بڑے دکاندار بھی ہوں) زمین کے ان ٹکڑوں پر جن کے وہ مالک نہیں اور جن کے استعمال کرنے کی انہوں نے اجازت نہیں لی اپنے کھوکھے یا دکانیں بنالی ہیں یہ ایسی چیز ہے