خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 369
خطبات ناصر جلد دوم ۳۶۹ خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۶۸ء اسلام ہم سے نہیں کرواتا پس اذان دینے میں ہمیں سبق دیا ہے کہ اگر تم بچے کے متعلق یہ فیصلہ کرو کہ کم عقلی کی وجہ سے وہ بات سمجھ نہیں سکتا تو یہ غلط ہے۔اس کا دماغ اللہ تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ جب بار بار اس کے کان میں نیکی کی باتیں پڑیں گی تو وہ نیک ہو جائے گا اور اس کی ابتدا پیدائش کے وقت ہی سے کر وغرض زبان گندی نہیں ہونی چاہیے۔پھر بڑی عمر کے لوگ ہیں وہ بعض دفعہ بازاروں میں لڑ پڑتے ہیں یہ ٹھیک ہے کہ ساری دنیا کے بازاروں میں لڑائی ہوتی ہو گی لیکن ایک احمدی بازار میں لڑائی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ہمارا یہ دعوی ہے کہ ہم دنیا کے لئے ایک نمونہ ہیں اور اگر ہم دنیا کے لئے ایک نمونہ ہیں تو ہمیں نمونہ بننا چاہیے اور اگر ہم نمونہ نہیں بنتے تو ہمارا یہ دعویٰ بڑا بیہودہ اور لغو ہے پھر تو ہمیں جماعت احمد یہ میں شامل نہیں رہنا چاہیے کیونکہ جماعت احمد یہ میں تو اسی کو شامل رہنا چاہیے (جبر تو کوئی نہیں ) جو جماعت احمدیہ کی ، اسلام کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے تیار ہو اگر وہ ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو اس لیبل کا نہ ہم کو کوئی فائدہ ہے اور نہ آپ کو کوئی فائدہ ہے نہ آپ کا رب راضی ہوگا اور نہ سلسلہ کا نظام راضی ہوگا، بازاروں میں جھگڑا کرنا اور اونچی بولنا سب چیزیں منع ہیں اور نا پسندیدہ ہیں۔جلسہ سالا نہ قریب آ رہا ہے اس لئے میں ذکر کے حکم کے ماتحت یاد دہانی کروا رہا ہوں چونکہ تین ہفتوں کے بعد رمضان شروع ہو جائے گا اس لئے پھر وقار عمل نہیں ہو سکے گا۔زبان اور مکان کے ماحول کی پاکیزگی کی ذمہ داری مقامی نظام پر ہے نظارت امور عامہ کو اس بات کی نگرانی کرنی چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبا ہیں اور جوا اپنی عمر کے لحاظ سے خدام ہیں ان کے نفوس کی اور ان کے جسموں کی ظاہری صفائی اور پاکیزگی اور محلے کی گلیوں کی صفائی اور پاکیزگی کی ذمہ داری خدام الاحمدیہ پر ہے اور گھروں کے اندر کی صفائی اور پاکیزگی کی ذمہ داری اس شخص پر ہے جس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گھر کا راعی قرار دیا ہے یعنی صاحب خانہ کی اگر وہ اپنی اس ذمہ داری کو نہیں نبھا تا تو وہ نظام کے سامنے جواب دہ ہو گا میں بھی انشاء اللہ کوشش کروں گا کہ رمضان سے قبل ایک یا دو بار بغیر بتائے چکر لگا کر دیکھوں کہ آپ نے اپنی ذمہ داریوں کو کس رنگ میں کس طرح اور کس حد تک نبھایا ہے۔