خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 276 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 276

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۶۸ء ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے صرف ان لوگوں پر کھلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایمان لاتے ہیں اور پھر اپنی عملی زندگی میں یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ ایمان کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے والے ہوں اس طرف متوجہ کرتے ہوئے سورۃ نساء میں ہی اللہ تعالیٰ نے فرما يا يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا (النساء: ۱۳۷) اے وہ لوگو جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہو امِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِه تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ایمان کا حکم تو پہلے ہی واضح ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اے وہ لوگو جن کا دعویٰ ہے کہ خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے وہ لوگ اللہ پر ایمان لائے ہیں اور اس بات پر ایمان لائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایک آخری اور کامل اور مکمل شریعت نازل کی ہے۔امِنُوا بِاللهِ وَ رَسُولِهِ اب اس ایمان کے تقاضوں کو تم پورا کرو کس طرح پورا کرو؟ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اے وہ لوگو جو ایمان کے مدعی ہو ایمان کے تقاضوں کو اللہ کی اطاعت یعنی قرآن کریم کی شریعت کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال کے وَاطِيعُوا الرَّسُولَ (النساء :۶۰) اور اتباع نبویہ کے طفیل اور آپ ہی کے حکم کے مطابق جب قدرت ثانیہ کے جلوے اللہ تعالیٰ ظاہر کرنا چاہے تو ان جلوؤں سے فائدہ اُٹھانے کے لئے جو تقاضے تم سے کئے جائیں ان کو پورا کر کے اپنے ایمان کا ثبوت دو اور اپنے لئے رحمتوں کے سامان پیدا کرو۔تو رحمت کے حصول کے لئے یا فضل کی جنتوں میں دخول کے لئے یا اللہ تعالیٰ کی جنتوں کی ٹھنڈی چھاؤں میں زندگی کے لمحات گزارنے کے لئے خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بنیادی چیز یہ ہے کہ معرفت اور عرفان کے ساتھ عَلى وَجْهِ الْبَصِيرَتِ ایمان اور اعتقاد کو پختہ کیا جائے اور دل اور روح ایمان کے نور سے منور ہو جائے اور تمام جوارح جن سے ہم کام لیتے ہیں ہمارے ہاتھ ہیں، ہماری زبان ہے، ہمارے پاؤں ہیں، ہماری آنکھیں ہیں ، ناک ہے جتنی بھی قو تیں اور استعدادیں اللہ تعالیٰ نے کام کی غرض سے ہمیں عطا کی ہیں ان سب کو ایمان کے مطابق ہم کام پر لگائیں اور ہمارا ہر عضو یہ گواہی دے کہ اس کی گردن پر خدا کے احکام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا جوا ہے اور آپ کے حکم سے اور آپ کی اطاعت سے کوئی باہر نہیں اگر انسان ایسا بن جائے تو اس سے زیادہ با برکت انسان کوئی نہیں ہو سکتا اور پھر وہ جو ایسا بننے کی کوشش کرے