خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 277
خطبات ناصر جلد دوم ۲۷۷ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۶۸ء یعنی۔۔۔یہ تو صیح ہے کہ قوت اور استعداد کا جائزہ مختلف ہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ شریعت اسلامیہ کے طفیل اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض سے اگر حصہ لیا جائے تو ہر انسان اپنی قوت اور استعداد کے دائرہ میں اپنے کمال کو حاصل کر سکتا ہے اور یہ اپنی قوت اور استعداد کے مطابق اپنی روحانی کمال کو حاصل کر لیتا ہے وہ اپنے دائرہ استعداد کے اندرجتنی زیادہ سے زیادہ رحمت اللہ کی حاصل کر سکتا تھا وہ اسے مل جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا کہ رحمت سے حصہ لینا چاہتے ہوتو ایمان پختہ، اعتقاد صحیح ، اعمال صالحہ ہوں، نیت خالص ہو، دل میں کوئی فتور اور شر نہ ہو اور روح اپنے رب کے آستانہ پر جھکی رہے اور دعاؤں میں مشغول رہے اور اس سے طاقت حاصل کرے تا اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چل سکے تو رحمت کے دروازے کھل جائیں گے۔میں نے بتایا ہے کہ قرآن کریم میں کئی سو تقاضے بیان ہوئے ہیں جو ہمارے ایمان سے کئے گئے ہیں ان میں سے بعض کا ذکر میں اس وقت اختصار کے ساتھ کر دینا چاہتا ہوں اور میں نے ان باتوں میں سے چند کا انتخاب کیا ہے جن میں مومن کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اگر تم ایمان لائے ہو تو یہ کرو اور اگر تم ایمان لائے ہو تو وہ کرو اللہ تعالیٰ سورۃ تحریم میں فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ امَنُوا تُوبُوا إِلَى اللهِ تَوْبَةً نَصُوحًا ( التحريم : ۹) ایمان کا دعویٰ اگر ہے تو ایمان کے اس تقاضے کو پورا کرو کہ اپنے اللہ کی طرف تو بہ کرو ایک سچی اور خالص تو بہ تو بہ کہتے ہیں کہ انسان اپنی غلطی پر نادم ہو کر اپنے گناہوں سے شرمندگی کا احساس کرتے ہوئے اس غلطی اور گناہ کے چھوڑنے کا عزم کرے اور اپنے رب سے یہ وعدہ کرے کہ آئندہ کبھی وہ اس قسم کی غلطی میں ملوث نہیں ہوگا یہ ابتدا ہے اور حقیقتاً پہلا تقاضا ہے ایمان کا۔کیونکہ جو شخص اسلام لاتے ہوئے یا اگر وہ اسلام میں پیدا ہوا ہے تو بلوغت کو پہنچتے ہوئے جب بھی اس کو روحانی بلوغت حاصل ہو حقیقی تو بہ کرتا ہے اس کے سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے اور اس کی روحانی زندگی کی ابتداوہ ہوتی ہے تو ایک تقاضا ہمارے ایمان کا یہ ہے کہ تُوبُوا إِلَی اللهِ تَوْبَةً نَصُوحًا ایک سچی اور خالص تو بہ کر کے انسان یہ عزم کرے کہ میں کبھی کوئی ایسی بات نہیں کروں گا جس سے میرے رب نے مجھے روکا ہے اور جس کے کرنے سے وہ ناراض ہوتا ہے اس کا