خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 996
خطبات ناصر جلد دوم ۹۹۶ خطبہ جمعہ ۲۱ نومبر ۱۹۶۹ء اور یہ کامل عبد جو اللہ تعالیٰ کا ہم رنگ بن گیا یہی وہ انسان ہے جس نے وہ حقیقی اور انتہائی کامیابی حاصل کی اور فلاح پائی جس سے بڑھ کر کسی انسان کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کامیابی اور اس فلاح کی صورت میں انسان کو اللہ تعالیٰ کے پیار اور اس کی رضا کا ابدی سرور حاصل ہوا۔ایک ایسی لذت نصیب ہوئی جس کے مقابلے میں دنیا جہاں کی لذتیں بالکل بیچ ہیں۔پس انسان کو اللہ تعالیٰ کا سچا بندہ اور حقیقی عبد بننے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔حقیقی عبد بننے کی را ہیں بتا دی گئی ہیں اور ان پر چل کر جو نتائج پیدا ہوتے ہیں ان کو بھی بیان کر دیا گیا ہے اور وہ یہی ہیں کہ جب انسان ان راہوں کو اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بن جاتا ہے تو پھر وہ ان کا میابیوں اور فلاح سے ہمکنار ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقدر کی ہیں مگر وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے حقیقی بندے نہیں بنتے وہ بڑے ہی بد قسمت ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ میرے قریب آنے کی بجائے مجھ سے دور چلے جاتے ہیں اور اس طرح فلاح اور کامیابی میں میرے پیار اور رضا کی لذت اور سرور کو پاہی نہیں سکتے۔پس ہمیں اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔عبودیت تامہ کے حصول کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنی چاہیے تا کہ ہماری زندگی کا مقصد ہمیں حاصل ہو جائے وہ کامیابی ہمیں مل جائے جو ہمارے مقدر میں ہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے پیار کا سلوک ہم سے ہونے لگے اور اس کی رضا کی نگاہ ہم پر پڑنے لگے اور اس کا ایسا پیار ہمیں نصیب ہو کہ جس کے بعد انسان کسی اور چیز کی ضرورت اور احتیاج محسوس نہیں کرتا۔اے خدا تو ایسا ہی کر۔(روز نامه الفضل ربوه ۵/ دسمبر ۱۹۷۰ ء صفحه ۲ تا ۷ )