خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 995
خطبات ناصر جلد دوم کوشاں رہو۔۹۹۵ خطبه جمعه ۲۱ / نومبر ۱۹۶۹ء پس مذکورہ آیت میں جو مرکزی نکتہ بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے انسان! میں نے تجھے عبادت تامہ کے لئے پیدا کیا ہے پس کامل عبد بننے کی کوشش کر اور تو خودا اپنی کوشش سے اس راہ کو پا نہیں سکتا جس کا کامل عبد بننے کے لئے حاصل کرنا ضروری ہے اس لئے ہم دو متوازن را ہیں تجھے بتا دیتے ہیں۔ایک فنا کی راہ ہے اور دوسری اطاعت کی راہ ہے۔ایک وہ راہ ہے جس کے نتیجہ میں توحید خالص پر تو قائم ہو جائے گا اور دوسری وہ راہ ہے جس کے نتیجہ میں توحید خالص پر قائم ہو کر توحید خالص کے تقاضوں کو تو پورا کرنے لگے گا یعنی اپنے رب کی اتباع اور اطاعت میں لگا ر ہے گا اور جس وقت تو میرا کامل بندہ بن جائے گا تو پھر تو اس قابل ہو جائے گا اور اپنے اندر یہ طاقت رکھے گا اور یہ استعداد تجھ میں پیدا ہو جائے گی کہ میں تجھے یہ حکم دے سکوں وا فَعَلُوا الخَیر یعنی دوسرے بندوں کے ساتھ یا دوسری مخلوق کے ساتھ یا خود اپنے نفس کے ساتھ خیر یعنی بھلائی کا معاملہ کرے کیونکہ میر احسن جس طرح میرے وجود میں ایک تو نور کی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے اس طرح وہ میرے وجود میں احسان کی صورت میں نمایاں ہوتا ہے۔جب تو میرا کامل بندہ بن جائے گا اور میری صفات کا رنگ تجھ پر چڑھ جائے گا تو پھر یہ دونوں چیزیں تیرے اندر پیدا ہو جائیں گی۔میرے حسن کا نور بھی تیرے وجود میں پیدا ہو جائے گا اور میرے احسان کے جلوے بھی تیرے وجود میں میری مخلوق مشاہدہ کرے گی تو اس قابل ہو جائے گا کہ وَافْعَلُوا الخَیر کے الفاظ میں میرا یہ حکم سن کر خیر اور بھلائی کے کام کرنے لگ جائے کیونکہ اس کے عمل پیرا رہنے کی تجھ میں طاقت ہوگی۔پس جس وقت انسان اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن جاتا ہے اور عبودیتِ تامہ اُسے حاصل ہو جاتی ہے تو وہ گو یا اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اخلاق کے مطابق اس کے اخلاق بن جائے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا پر تو اس کی زندگی کے ہر زاویہ اور ہر شعبہ پر پڑتا ہے۔پس انسان کے کامل عبد بن جانے کی صورت میں جہاں دنیا اُس کے وجود میں حسنِ باری تعالیٰ کے جلوے دیکھتی ہے وہاں دنیا اس کے وجود میں اللہ تعالیٰ کے احسان کے جلوے بھی دیکھتی ہے