خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 997
خطبات ناصر جلد دوم ۹۹۷ خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۶۹ء جب تک اللہ تعالیٰ کا بے انتہا فضل ساتھ شامل نہیں ہوتا اس وقت تک انسانی کوشش کے نتائج نہیں نکلا کرتے خطبه جمعه فرموده ۲۸ /نومبر ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔گذشتہ خطبہ میں میں نے بتایا تھا کہ عبودیت تامہ کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ کی ذات سے سچی اور حقیقی محبت اور اس کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری ضروری ہے (اسی کے ساتھ عبودیت تامہ انسان کو حاصل ہوتی ہے ) یعنی اللہ تعالیٰ کے ذاتی حسن کے جلوے انسان کو اپنی محبت کی گرفت میں اس طرح پکڑ لیں کہ غیر اللہ کا وجود باقی نہ رہے اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کی گرفت انسان کے دل، دماغ اور روح پر اس طرح ہو کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے سوا کسی اور کی اطاعت کا خیال بھی دل میں نہ گزرے اس محبت ( جو سچی اور کامل اور حقیقی ہو ) اور اس اطاعت ( جو ہر لحاظ سے مکمل ہو ) کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق عبودیت تامہ پیدا ہوتا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا رنگ بچے اور حقیقی معنی میں انسان کی زندگی پر چڑھ جاتا ہے اور جب انسان اپنے رب کا حقیقی بندہ بن جائے اسی وقت اس کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ اس کی زندگی اس بات پر شہادت ہو کہ قرآن کریم میں خیر ہی خیر اور بھلائی ہی بھلائی ہے۔