خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 68
خطبات ناصر جلد دوم ۶۸ خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۶۸ء بیان کرنے کے لئے فرمایا ہے کہ ہر وہ عمل جو تقویٰ کی جڑ سے نہیں نکلا ، جو تقوی کے قلعہ میں محفوظ نہیں، جو تقویٰ کے نور کے ہالہ میں روحانی زینت نہیں رکھتا وہ رڈ کر دیا جاتا ہے اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ تقومی عطا کرتا ہے اس کی ساری زندگی کو ، اس کے سارے افعال کو ، اس کے سارے اقوال کو، اس کی ساری حرکات اور سکنات کو وہ نور عطا کرتا ہے جس نور سے ایسا متقی غیروں سے علیحدہ ہوتا اور ایک خصوصیت اپنے اندر رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون کو ایک اور رنگ میں بھی بیان فرمایا ہے آپ فرماتے ہیں کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔دراصل روحانی خوبصورتی نام ہے ( اور خوبصورت سے ہماری مراد ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں خوبصورت ہو ) خوبصورت افعال اور خوبصورت اعمال کا یعنی جب تک ہمارے اقوال اور ہمارے اعمال اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں روحانی خوبصورتی پانے والے نہ ہوں دعوی خواہ کوئی انسان کتنا ہی کرتار ہے وہ خوبصورت نہیں ہوا کرتے۔قرآن کریم نے جو یہ فرما یا لِبَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف: ۳۲) تو یہاں بھی اسی طرف ہمیں متوجہ کیا گیا ہے۔مسجد تذلل اور عبادت کے مقام کو کہتے ہیں اور زینہ سے یہاں مراد دل کی صفائی اور پاکیزگی اور دل کا تقویٰ ہے اللہ تعالیٰ نے یہاں حکم دیا ہے کہ جب بھی میرے حضور تذلّل سے جھکنا چاہو اور میری اطاعت اور میری عبادت کرنا چاہو اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے تم اپنے دلوں کو پاکیزہ کرو اور تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے مجھ تک پہنچنے کی کوشش کر و حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم میں فرماتے ہیں :۔انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقویٰ کی تمام باریک راہوں پر قدم مارنا ہے تقویٰ کی باریک راہیں، روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط و خال ہیں اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی امانتوں اور ایمانی عہدوں کی حتی الوسع رعایت کرنا اور سر سے پیر تک جتنے قوئی اور اعضا ہیں جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیر اور دوسرے