خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 67
خطبات ناصر جلد دوم ۶۷ خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۶۸ء اس مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کی تفسیر کرتے ہوئے ایک دوسری جگہ یوں بیان فرمایا ہے کہ حقیقی تقویٰ اپنے ساتھ ایک نور رکھتی ہے۔ہر وہ پاک اعتقاد یا عمل صالح جونور کے ہالہ میں لپٹا ہوانہیں وہ رڈ ہونے کے قابل ہے اور رڈ کر دیا جاتا ہے لیکن جب انسان کا قول اور فعل تقویٰ کے نور کے ہالہ میں لپٹا ہو تو اللہ تعالیٰ کو وہ بڑا ہی پیارا اور محبوب ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی تشریح بھی کی ہے آپ ہی کے الفاظ میں اس مضمون سے متعلق ایک چھوٹا سا اقتباس میں نے لیا ہے جو یہاں بیان کرتا ہوں آئینہ کمالات اسلام میں ہی آپ فرماتے ہیں۔الله جَلَّ شَانُه فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانَا وَ يُكَفِّرُ عَنْكُمْ سَيَأْتِكُمْ (الانفال:٣٠) وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ (الحديد : ۲۹) یعنی اے ایمان لانے والو! اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق * رکھ دے گا وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نو ر تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قومی اور حواس میں آجائے گا تمہاری عقل میں بھی نور ہوگا اور تمہاری ایک انکل کی بات میں بھی نور ہو گا اور تمہاری آنکھوں میں بھی نور ہو گا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہوگا اور جن راہوں میں تم چلو گے وہ راہ نورانی ہو جائیں گی۔غرض جتنی تمہاری راہیں تمہارے قویٰ کی راہیں تمہارے حواس کی را ہیں ہیں وہ سب نور سے بھر جائیں گی اور تم سراپا نور میں ہی چلو گے۔66 تو اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرما یا اَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ سَيَأْتِكُم (الانفال:۳۰) وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمُشُونَ بِه (الحدید : ۲۹) یہ اسی حقیقت کو (ایک فرقان تمہیں عطا کرے گا )