خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 69
خطبات ناصر جلد دوم ۶۹ خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۶۸ء اعضا ہیں اور باطنی طور پر دل اور دوسری قوتیں اور اخلاق ہیں۔ان کو جہاں تک طاقت ہو ٹھیک ٹھیک محل ضرورت پر استعمال کرنا اور ناجائز مواضع سے روکنا اور ان کے پوشیدہ حملوں سے متنبہ رہنا اور اسی کے مقابل پر حقوق عباد کا بھی لحاظ رکھنا یہ وہ طریق ہے جو انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے۔چنانچہ لِباسُ التَّقْوى قرآن شریف کا لفظ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔“ 966 تو تقویٰ ایک ایسا حکم ہے جس کا براہِ راست اور نہایت ہی گہرا اور ضروری تعلق تمام دوسرے احکام سے ہے، خواہ وہ احکام ہمارے اقوال سے تعلق رکھتے ہوں یا اعتقادات سے تعلق رکھتے ہوں یا اعمال سے تعلق رکھتے ہوں، خواہ وہ احکام مثبت ہوں کہ کرنے کا حکم دیا گیا ہو، خواہ وہ احکام منفی ہوں کہ برائیوں سے روکا گیا ہو۔ہر حکم کی بجا آوری اس رنگ میں کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہمارا وہ فعل مقبول اور محبوب ہو جائے ممکن نہیں جب تک تقوی کی بنیاد پر اس کی عمارت نہ ہو، جب تک تقویٰ کی جڑ سے اس کی شاخیں نہ پھوٹیں، جب تک تقویٰ کے نور کے ہالہ میں وہ لپٹا ہوا نہ ہو، جب تک تقویٰ کی روحانی زینت اسے خوبصورت نہ کر رہی ہو ہمارے رب کی نگاہ میں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ پر دوسرے احکام کے مقابلہ میں بہت ہی زور دیا ہے اور اس لئے بھی زور دیا ہے کہ اس حکم کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض لوگ خود کو بڑا بزرگ سمجھنے یا کہنے لگ جاتے ہیں یا کسی دوسرے کو بڑا بزرگ سمجھنے یا کہنے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ اس بنیادی حقیقت کے مدنظر ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ حکم دیا ہے کہ فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُم هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم : ۳۳) جب تقوی کا تعلق دل سے ہے، جب تقویٰ کا تعلق نیت سے ہے، جب تقوی کا تعلق اس پوشیدہ تعلق سے ہے جو ایک بندے کا خدا سے ہوتا ہے تو پھر بندوں کو تو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خود فیصلہ کریں اور حکم بنیں۔یہ کام اللہ تعالیٰ کا ہے هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقی انسان کو عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے بنیادی فضل اللہ تعالیٰ سے یہ چاہنا چاہیے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں تقویٰ دے، !