خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 756 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 756

خطبات ناصر جلد دوم تمہارا فرض ہے۔۷۵۶ خطبہ جمعہ ۱۸ ر جولائی ۱۹۶۹ء اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندرونی حسن کو اجاگر کرنے کے لئے اپنی صفت رحمان کا ظل بننے کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ بیشک نہ کسی سے تمہارا کوئی تعلق ہے، نہ کسی کا تم پر کوئی احسان ہے، نہ کسی سے کسی قسم کے فائدہ کی تمہیں امید ہے بایں ہمہ اگر تم دیکھتے ہو کہ کسی کے بعض حقوق اسے نہیں مل رہے تو تم اسے وہ حقوق دلوانے یا خود دینے کی کوشش کرو۔تمہارا یہ عمل دراصل رحمانیت کا ایک جلوہ ہے کیونکہ جس کے حقوق ادا کرنے کی تم کوشش کر رہے ہو اس نے کوئی کام نہیں کیا کہ اسے اُجرت دینی ہے اس نے کوئی احسان نہیں کیا کہ اس کا بدلہ چکانا ہے۔یہ مضمون فی ذاتہ بڑا وسیع ہے کیونکہ ہر داعی کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔جس طرح عادتیں بے شمار ہیں اسی طرح راعی ہونا بھی ان گنت جہات سے ممکن ہے عملاً اس دنیا میں کوئی کس کس راعی کو گن سکتا ہے۔سکول یا کالج کے لڑکے ہیں۔اب سکول کے ہیڈ ماسٹر ہوں یا کالج کے پرنسپل ان کا صرف یہی دیکھنا کام نہیں ہے کہ طلبہ کی پڑھائی ٹھیک ہو رہی ہے یا نہیں ، بلکہ ان کا فرض ہے کہ وہ یہ بھی دیکھیں کہ لڑکوں کی صحت و تندرستی کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے مثلاً غذا ہے، دوا ہے، یا وقت پر آرام پہنچانا ہے، ضرورت کے مطابق کپڑے مہیا کرنے ہیں کیونکہ یہ بھی صحت پر اثر ڈالتے ہیں انہیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ آیا یہ ساری چیزیں ان کے پاس ہیں یا نہیں۔اگر نہیں ہیں تو وہ ان کا انتظام کریں۔کیونکہ ہمارے رب نے فرمایا ہے کہ میں ہر انسان کو قو تیں دینے کے بعد ان کے نشو و نما کے کمال تک پہنچنے کے سامان پیدا کر چکا ہوں۔اگر کسی کو وہ سامان میسر نہیں آرہے تو وہ مظلوم ہے۔اس مظلومیت سے اور اس ظلم سے چھڑانے کی کوشش کرنا از بس ضروری ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم میری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکو گے جب تک کہ اقتدار یعنی راعی ہونے کی حیثیت میں تمہارے کام خالصہ میرے لئے اور میرے احکام کے ماتحت نہیں ہوں گے اگر تمہارے کام میرے لئے ہوں گے تو میری عبادت کا حق ادا ہو جائے گا تمہیں میرا پیار حاصل ہو جائے گا۔تمہیں میری رضا کی جنتیں مل جائیں گی پھر یہ دنیا وہ دنیا بن جائے گی جو میں بنانا چاہتا ہوں لیکن اگر تم راعی بننے کے ساتھ اپنی مرضی چلاؤ گے اگر تم را می بننے کے بعد نکتے پن