خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 755 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 755

خطبات ناصر جلد دوم ۷۵۵ خطبہ جمعہ ۱۸؍ جولائی ۱۹۶۹ء ایک شخص اپنی پوری توجہ (Concentration) سے ایک کام کر رہا ہے وہ ایک چیز کو آدھ گھنٹے میں تیار کر دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ کام کرنے والا ایک دوسرا مزدور اسی چیز کو ایک گھنٹے میں بھی تیار نہیں کر سکتا۔پس توجہ بھی تو آخر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ایک عطا ہے، ایک طاقت ہے اگر یہ اور دوسری تمام طاقتیں اور قو تیں اس رنگ میں کام کرنے لگ جائیں جس رنگ میں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ کام کریں تو ہماری اقتصادی حالت دگنی تگنی اچھی ہو جائے مگر ہم دوسروں کی نقلیں اتار نے کے لئے تو تیار ہو جاتے ہیں ، اپنی ذمہ داریاں نباہنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔غرض اللہ تعالیٰ نے مُخْلِصِينَ لَهُ الدّین میں عبادت کا چھٹا تقاضا یہ بتایا ہے کہ تمہاری ہر عادت اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے حکم کے تابع اور ہر برائی کے خلاف جنگ کرنے والی ہونی چاہیے اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی تو پابندی کرتا ہوں لیکن میری عادتیں ، میری خواہشات اور میری مرضی کے مطابق ہوں گی تو ایسا شخص پورے طور پر متقی نہیں کہلا سکتا نہ ہی وہ اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کر سکتا ہے۔حالانکہ عادت صحیحہ کی صورت میں وہ اپنی استعداد کے مطابق اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کر سکتا تھا۔حقیقی عبادت کا ساتواں تقاضا مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ میں یہ بیان ہوا ہے کہ جب تمہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کسی قسم کا کوئی اثر یا رسوخ حاصل ہو تو تمہارا یہ غلبہ، یہ طاقت ، یہ اثر اور یہ رسوخ اور یہ راعی ہونا خالصہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہو کیونکہ الدین “ کے ایک معنے غلبہ واقتدار کے بھی ہیں۔جس طرح سامراجی (Imperialists) حکومتیں دنیا میں تباہی مچاتی رہی ہیں دیکھنا کہیں تم بھی اس غلبہ واقتدار کی صورت میں غیر اقوام کو اقتصادی طور پر لوٹنا شروع نہ کر دینا بلکہ ایسی صورت میں تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ تم خدا تعالیٰ کی صفات میں رنگین ہو کر اقتصادی ذمہ داریوں کو نباہو۔مثلاً اللہ تعالیٰ کی ایک صفت رَبُّ العلمین ہے تمہیں جہاں جہاں اور جس جس رنگ میں اثر ورسوخ حاصل ہو اس کے استعمال میں ربوبیت عالمین کا تقاضا مد نظر رہنا چاہیے۔ایسا نہ ہو کہ تم عالمین کے کسی ایک حصے کی ربوبیت اور دوسرے حصے کی ہلاکت کی تجویز سوچنے لگ جاؤ بلکہ اس عالمین کی ہر مخلوق کی ربوبیت کے لئے کام کرنے کی تجاویز سوچنا اور پھر عملاً ان کے مطابق کام بھی کرنا