خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 757 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 757

خطبات ناصر جلد دوم ۷۵۷ خطبہ جمعہ ۱۸ / جولائی ۱۹۶۹ء کی عادت کی وجہ سے ان ذمہ داریوں کی طرف توجہ نہ دو گے جن کی طرف تمہیں توجہ دینی چاہیے تو پھر تم میرے غضب کو مول لینے والے بن جاؤ گے۔اس حصہ کا بھی ہمارے اقتصادی نظام سے بڑا تعلق ہے کیونکہ جیسا کہ (اس وقت تو میں اسی پر اکتفا کروں گا طبیعت میں کچھ کمزوری کا احساس بھی ہے ) میں پہلے بتا چکا ہوں کہ قرآن کریم نے تدبیر یعنی منصوبہ بندی کی طرف شروع سے توجہ دلائی ہے۔اس سلسلہ میں یہ بات بڑی ضروری ہے کہ جو آدمی ذمہ داری کی جگہ پر ہوں ذمہ داری کی جگہیں تو کروڑوں ہیں صرف اعلیٰ حکام ہی ذمہ داری کی جگہ پر نہیں ہوتے ، ذمہ داری کے لحاظ سے گھر کا مالک بھی ذمہ دار ہے ) ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے دائرہ کے اندر حالات سے واقفیت پیدا کریں۔ہر وقت بیدار اور چوکس رہ کر اپنے ماحول میں بسنے والوں کی ضرورتوں اور حقوق کو معلوم کرنے کے بعد ان کو پورا کرنے کی حتی المقدور کوشش کریں لیکن اگر وہ ضرورت مند کی ضرورتوں کو پورا کرنے اور حق دار کے حقوق کو ادا کرنے کا انتظام نہیں کر سکتے۔تو پھر ان کا یہ فرض ہے کہ وہ ان ضرورتوں اور حقوق کے متعلق اس مرکزی اتھارٹی سے رجوع کریں جس کا یہ کام ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے منشا کے مطابق اس دنیا میں اسلام کے اقتصادی نظام کو قائم کرے مثلاً ہمارے ملک میں تو ابھی تک گندم کی باتیں ہورہی ہیں۔مزدور کے پیٹ بھرنے کا مسئلہ حل طلب ہے لیکن وہ ملک جو ہر لحاظ سے ہم سے آگے ہیں وہ گندم کی سرحدوں سے نکل کر دودھ کی چراگاہوں (Pastures) میں داخل ہو چکے ہیں کیونکہ ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ نہ صرف سکول میں جانے والے بچوں کے لئے بلکہ دوسرے تمام آدمیوں کو بھی دودھ ملنا چاہیے ورنہ لوگوں کی صحت برقرار نہیں رہے گی۔قرآن کریم نے گندم اور دودھ کی کوئی تمیز روا نہیں رکھی بلکہ یہ کہا ہے کہ میں نے ہر فرد واحد کی صحت اور تندرستی کا انتظام کیا ہے۔ہر شخص کو اس کی عمر کے لحاظ سے پورے طور پر صحت مند اور تو انار کھنے کے لئے جس قسم کی غذاؤں کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے سامان پیدا کر دیئے ہیں ویسے عمر عمر کے لحاظ سے غذا ئیں بدل جاتی ہیں مثلاً ماں کی گود میں جو بچہ ہے وہ صرف ماں کے دودھ پر گزارہ کر سکتا ہے اور یہ غذا اس کی عمر کے لحاظ سے بہترین غذا ہے جب اسے ذرا ہوش آتا ہے دانت نکال لیتا ہے