خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 620
خطبات ناصر جلد دوم ۶۲۰ خطبہ جمعہ ۹ رمئی ۱۹۶۹ء کے لئے ہر قسم کے ایثار کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے ظلم سہنے کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے ظلم کو معاف کرنے کی وغیرہ وغیرہ جتنے نیک اعمال ہیں ان سے ایک بنیاد قائم ہوتی ہے جو جنت میں گھر بناتا ہے وہ یہی گھر ہے نا جو ہم اس دنیا میں روحانی طور پر تیار کر رہے ہوتے ہیں۔اس کی بنیاد تین چیزوں پر قائم کی گئی ہے جن میں پہلے یہ ہے حنفاء کہ یہ ذمہ داریاں جب تم نباہو ان میں ثبات قدم ہو، مستقل مزاجی ہو، تمہاری ساری کی ساری زندگی اللہ تعالیٰ کے لئے گزرنے والی ہو۔جب تم اس کی عبادت کرو تو یہ نہیں کہ چند دن عبادت کی اور چند دن چھٹی لی۔روحانی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جو کام کئے جاتے ہیں ان میں رخصتیں نہیں ہوتیں۔بلکہ ذمہ داری کے عائد ہونے کے دن سے دنیا سے گزر جانے کے دن تک وہ کام لگا تار اور با قاعدگی سے کرنا ہوتا ہے۔یہ نہیں کہ سکولوں کی رخصتوں کی ) طرح دس مہینے نماز پڑھی اور دو مہینے نماز سے چٹھی ہوگئی۔نماز با جماعت تو پانچ وقت ہی سوائے اس جائز مجبوری کے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں سختی سے بچانے کے لئے ہم پر رحم کرتے ہوئے سہولت دی ہے۔اس کے علاوہ مسجد میں آکر نماز پڑھنا ضروری ہے۔اسی طرح وہ سینکڑوں احکام الہی جو قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں اور ان کی ہزاروں فروعات جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ کی سنت میں پائی جاتی ہیں۔ان پر باقاعدگی کے ساتھ استقلال کے ساتھ عمل کرنا ضروری ہے حنفاء ہونا چاہیے، ثبات قدم ہونا چاہیے۔استقلال ہونا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر تو یہ شکل بنے گی کہ ہماری زندگی کے کچھ دن خدا کے لئے گزرے اور کچھ دن شیطان کے لئے گزرے۔لیکن ہمارا خدا یہ کہتا ہے کہ اگر تم سب کچھ مجھے دینا نہیں چاہتے تو میں تم سے کچھ بھی لینے کے لئے تیار نہیں ہوں۔پھر سب کچھ ہی شیطان کی گود میں جا کر ڈال دو اور اس دنیا کی جہنم اور اس دنیا کی جہنم کے وارث بنو۔لیکن اگر میرا بننا ہے تو میرے ہو کر ساری زندگی کے دن گزارنے ہوں گے۔اگر تم آدھا مجھے اور آدھا میرے غیر کو دینا چاہو تو جو مجھے دینا چاہو گے وہ بھی میں قبول نہیں کروں گا۔پس فرما یا کہ عبادت اور اس کی ذمہ داریاں اور اس سلسلہ میں جو احکام بجالانے ہیں ان میں ثبات قدم ہونا چاہیے استقلال ہونا چاہیے با قاعدگی ہونی چاہیے، اور بشاشت اور رضا ہونی