خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 619 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 619

خطبات ناصر جلد دوم ۶۱۹ خطبہ جمعہ ۹ رمئی ۱۹۶۹ء پس آٹھویں ذمہ داری ہم پر یہ ڈالی گئی ہے کہ جو تد بیر بھی تم کرو کسی چھوٹے مقصد کے لئے وہ تدبیر ہو یا کسی بڑے اہم مقصد کے لئے وہ تدبیر ہو، جس قسم کی وہ تدبیر ہواصل مقصد اس تدبیر سے یہ ہو کہ تمہارا رب تم سے خوش ہو جائے۔نویں یہ کہ جب نفس کا اپنے دوسرے بھائیوں کا جن کی تربیت کی ذمہ داری تم پر ہے محاسبہ کرنے لگو تو وہ محاسبہ احکامِ باری جل شانہ کی روشنی میں ہو کسی تکبر یا غصہ یا نخوت یا حقارت کے نتیجہ میں نہ ہو۔بعض لوگ مثلاً بے دھڑک اپنے منہ سے نکال دیتے ہیں کہ فلاں علاقے کے لوگوں میں یہ یہ بُرائیاں ہیں۔اب یہ بھی ایک محاسبہ ہے لیکن یہ خدا تعالیٰ کو خوش کرنے والا محاسبہ نہیں ہے۔نفس سے محاسبہ شروع ہوتا ہے اور خاموشی کے ساتھ اور احساسات اور جذبات کو ٹھیس لگائے بغیر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اس کے بندوں کو اسکے قریب لانے کے لئے انسان محاسبہ کرتا ہے۔دسویں ذمہ داری حقیقی عبادت کی ہم پر یہ ڈالی گئی ہے کہ جب تم فیصلہ کرو تو اللہ تعالیٰ کے فیصلوں اور احکام کے مطابق فیصلہ کرو۔اور گیارہویں ذمہ داری یہ ڈالی گئی ہے کہ جب تم بدلہ دو یا جب تم بدلہ لینے کی اُمید رکھو، ہر دوصورتوں میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ملحوظ ہو۔بدلہ لینے کے متعلق میں نے بتایا تھا ( یاد دہانی کرا دیتا ہوں ) کہ مثلاً اپنے نفس کے علاوہ غیر کے ساتھ حسن سلوک سے متعلق بدلہ لینے کا جو اصول بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ تم نہ بدلے کی خواہش رکھو اور نہ یہ خواہش رکھو کہ وہ تمہارا مشکور ہو گا۔جب تم نے احسان کیا ہے تو اس کے بدلے میں احسان کی اُمید یا خواہش یا شکر گزار ہونے کی اُمید یا خواہش نہ رکھو۔بہر حال میں نے اصولی طور پر دو تین باتیں بتائی تھیں۔یہ گیارہ ذمہ داریاں مُخْلِصِينَ کہ الدین کی آیت کا ٹکڑا ہم پر ڈالتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تین ذمہ داریاں اس قسم کی ڈالیں جن کا ان گیارہ کی گیارہ ذمہ داریوں سے تعلق ہے اور دراصل ان ذمہ داریوں کو صحیح طور پر نباہنے کے لئے وہ تین چیزیں بنیاد بنتی ہیں۔ان ذمہ داریوں کو نباہنے سے جو عمارت کھڑی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی محبت کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے فدائیت کی اور اللہ تعالیٰ