خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 621
خطبات ناصر جلد دوم ۶۲۱ خطبہ جمعہ ۹ رمئی ۱۹۶۹ء چاہیے اس کے بغیر تو انسان کو ثبات قدم نہیں ملتا۔اس سلسلہ میں دوسری چیز جو بنیاد ہے وہ ہے یقیمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزَّکوة اس میں دو چیزیں آگئی ہیں۔قرآن کریم نے صلوٰۃ اور زکوۃ کو مختلف معانی میں استعمال کیا ہے۔بعض جگہ تو ایک خاص عبادت جو ہم پانچ وقت فرائض کے طور پر کچھ سنتوں اور نوافل کے طور پر ادا کرتے ہیں اس کو صلوۃ کہا جاتا ہے اور زکوۃ اس مقررہ لازمی چندے کو کہا جاتا ہے جس کی تفاصیل قرآن اور احادیث میں پائی جاتی ہیں۔لیکن ان دو الفاظ کو بنیادی معانی میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم کی ابتدا میں سورۃ بقرہ کے شروع میں ہی ایک بڑا لطیف اصولی مضمون بیان ہوا ہے اور اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم کے نزول کے بعد دنیا تین گروہوں میں منقسم ہو جائے گی۔(۱) ایمان لانے والے (۲) کھلم کھلا انکار کرنے والے اور (۳) منافقانہ راہوں کو اختیار کرنے والے۔وہاں ساری باتیں جو بیان کی گئی ہیں وہ بڑی اصولی ہیں۔وہاں بھی هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة : ۳، ۴) میں يُقِيمُونَ الصَّلوة اور مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ جو دو فقرے استعمال ہوئے ہیں ان کی بجائے یہاں يُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزَّکوة کے دو فقرے ایک ہی معنی میں استعمال ہوئے ہیں اور یہ دو چیز میں تمام اعمالِ صالحہ اور عبادات کی بنیاد ہیں۔صلوۃ سے مراد وہ بنیادی دعا ہے جس کے کرنے کا حکم بطور فریضہ کے دیا گیا۔ایک وہ دعا ہے جو ضرورت کے مطابق انسان کرتا ہے۔ہر فرد کی ضرورت مختلف ہوتی ہے ہر شخص کی ضرورت مختلف اوقات میں مختلف ہوتی ہے وہ حسب ضرورت اپنے رب سے مانگتا ہے اور اس کے فضل سے پاتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جوتے کا اگر ایک تسمہ بھی ٹوٹ جائے اور اس کی ضرورت ہو تو یہ نہ سمجھنا کہ زور بازو سے تم اسے حاصل کر سکو گے۔بُوٹ کا تسمہ بھی تم اپنے خدا سے مانگو۔پس ایک تو یہ انفرادی دعا ہے جو انفرادی حالات کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔لیکن ایک بنیادی دعا ہے یعنی عاجزانہ اپنے رب کے قدموں پر گر جانا جو بطور فریضہ کے قائم کی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُدْعُوني اَسْتَجِبْ لَكُم (المؤمن :۶۱) کے ایک معنی یہ بھی