خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 49
خطبات ناصر جلد دوم ۴۹ خطبہ جمعہ ۱۶ رفروری ۱۹۶۸ء ایسے لوگوں کو اور دوسروں کو بھی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارا مالی سال ختم ہونے کو ہے قریباً اڑھائی ماہ رہ گئے ہیں اور اگر چہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے گذشتہ سال اس وقت تک صدر انجمن احمد یہ کی جو وصولی ہوئی تھی اس کے مقابلہ میں قریباً ڈیڑھ دولاکھ روپیہ زائد رقم وصول ہو چکی ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں ہم اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت کو اس کی توفیق دی ) لیکن جو بجٹ آپ نے شوریٰ میں پاس کیا تھا اس کے مقابلہ میں ابھی ڈیڑھ دولاکھ کی کمی ہے اس کمی کو ہم نے ان اڑھائی ماہ میں پورا کرنا ہے جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طرف فوری توجہ دیں اور کوشش کریں کہ جیسا کہ گذشتہ کئی سال سے ایسا ہوتا چلا آرہا ہے ہماری آمد بجٹ سے زیادہ ہو جائے کم نہ رہے گزشتہ سال بھی بجٹ سے کہیں بڑھ گئی تھی وصولی ، اس سے پہلے سال بھی اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے جماعت کو بڑی مالی قربانیوں کی توفیق عطا کر رہا ہے اور دوسری قسم کی قربانیوں کی بھی ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی حفاظت میں ہمیشہ رکھے گا اور شیطان کا کوئی وسوسہ ہمارے خلاف کامیاب نہ ہو گا۔دوسری مالی قربانی جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ فضل عمر فاؤنڈیشن ہے۔۶۸ - ۲ - ۱۵ تک فضل عمر فاؤنڈیشن کے اندرون پاکستان کے وعدے ستائیس لاکھ انہتر ہزار چارسو بائیس (۴۲۲، ۶۹، ۲۷ روپے) اور غیر ممالک کے وعدے آٹھ لاکھ اونا نوے ہزار نو سو پچاسی روپے (۹۸۵، ۸۹، ۸ روپے ) یعنی قریباً نولا کھ ہوا۔فضل عمر فاؤنڈیشن کا دوسرا سال جون کے آخر میں ختم ہو رہا ہے۔یکم جولائی کو تیسرا سال شروع ہو جائے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وعدوں میں اضافہ نہ ہو تو جون کے آخر تک اندرونِ پاکستان سے قریباً ساڑھے اٹھارہ لاکھ روپے کی رقم جمع ہو جانی چاہیے اور غیر ممالک ( بیرونِ پاکستان ) سے قریباً چھ لاکھ روپے کی رقم جمع ہو جانی چاہیے لیکن ساڑھے اٹھارہ لاکھ روپے کے مقابلہ میں اس وقت تک یعنی ۶۸ - ۲ - ۱۵ تک صرف بارہ لاکھ تیرہ ہزارنوسوچھیانوے (۹۹۶، ۱۳ ، ۱۲ روپے ) کی وصولی ہوئی ہے اور بیرون پاکستان سے چھ لاکھ کی بجائے قریباً چار لاکھ کی وصولی ہوئی ہے وہاں سے دو لاکھ روپیہ اور وصول ہونا چاہیے جون کے آخر تک اور قریباً سوا چھ لاکھ روپیہ