خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 50 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 50

خطبات ناصر جلد دوم ۵۰ خطبہ جمعہ ۱۶ رفروری ۱۹۶۸ء اندرونِ پاکستان میں وصول ہونا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے خاندان کو یہ توفیق بخشی ہے (محض اپنے فضل سے ) کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خاندان کا ایک لاکھ روپے کا وعدہ جو تھا اس کی دوسری قسط پوری کی پوری ادا ہو چکی ہے۔الْحَمْدُ لِلهِ۔اسی طرح بڑی پھوپھی جان نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ جو ہماری چھوٹی پھوپھی جان ہیں ان کی طرف سے بھی قسط کے مطابق اپنے حصہ رسدی ۲٫۳ کے مطابق وصول ہو چکی ہے۔اسی طرح اور بہت سے دوست ہیں جنہوں نے اپنے وعدے ادا کر دیئے ہیں۔لیکن دوسرے سال کے بجٹ میں سے یعنی 9لاکھ میں سے صرف تین لاکھ کچھ کی وصولی ہوئی ہے اور چھ لاکھ کی وصولی باقی ہے اس میں شک نہیں کہ جماعتیں اس عرصہ میں جو اڑھائی ماہ کا عرصہ باقی ہے صدر انجمن کے مالی سال کا ، اس میں لازمی چندے صدر انجمن احمد یہ کے جو ہیں ان کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں لیکن جماعتوں کو یہ چاہیے کہ ان چندوں پر زور دینے کے علاوہ یہ بھی خیال رکھیں کہ جماعت کا مالی سال ختم ہونے کے بعد فضل عمر فاؤنڈیشن کے وعدوں کی وصولی کے لئے صرف دو ماہ باقی رہ جائیں گے اور ابھی چھ لاکھ روپیہ وصول ہونے والا ہے۔تو ہم نے ایک پاک نفس کی محبت پر (مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت پر ) مال کی محبت کو قربان کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اس طرح مِمَّا تُحِبُّونَ کے مطابق خرچ کرنے والوں میں شامل ہوئے تھے مگر اللہ تعالیٰ صرف وعدوں کو نہیں دیکھتا ، صرف زبانی باتوں کے نتیجہ میں ہم اس کی رضا کو حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ عمل صالح ہمارے اعتقاد اور ہمارے وعدوں اور ہمارے دعوؤں کی تصدیق نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہمارے وعدوں اور نیک اقوال کو بلند نہ کرے تو اللہ تعالیٰ تک اس کی رضا کے حصول کے لئے وہی وعدہ ، وہی دعویٰ پہنچ سکتا ہے جس کے پیچھے عمل بھی اس کی تصدیق کرنے والا ہو۔پس دوستوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اس محبت پر داغ نہ لگا ئیں جو محبت حقیقتا ان کے دلوں میں اپنے محبوب مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے ہے اور وقت کے اندراندر دو تہائی نہیں بلکہ اس سے زیادہ رقوم فضل عمر فاؤنڈیشن کی مد میں جمع کروا دیں تا