خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 48 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 48

خطبات ناصر جلد دوم ۴۸ خطبہ جمعہ ۱۶ رفروری ۱۹۶۸ء جائے تو آٹھواں حصہ دینا شروع کر دو جب آٹھواں حصہ دینے کی عادت پڑ جائے تو ساتواں حصہ دینا شروع کر دو تیسرے حصہ تک اسی طرح کرتے جاؤ۔(اگر کسی وقت تمہیں یہ احساس ہو کہ جو تمہاری پہلی قربانیاں ہیں وہ طبیعت اور عادت کا ایک جزو بن گئی ہیں اور مینا تُحبون والی بات نہیں رہی) تو ہدایت کی راہوں پر آگے سے آگے لے جانے کا راستہ اس آیت میں دکھایا گیا ہے۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ اور اس سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ جب قرآن کریم کے شروع میں ہمیں بتایا گیا تھا ھدًی لِلْمُتَّقِينَ ہے یہ کتاب اس کے کیا معنی ہیں؟ یہ تو ایک مثال ہے بیبیوں مثالیں ایسی ہیں کہ تقویٰ کے کسی ایک مقام پر اللہ تعالیٰ حقیقی مومن اور متقی کو کھڑا نہیں رہنے دیتا بلکہ اس کے دل میں ایک جوش اور ایک جذبہ پیدا کرتا ہے کہ جب اس سے مزید ترقی کی را ہیں کھلی ہیں۔جب اللہ تعالیٰ کی محبت کے مزید جلوے میں دیکھ سکتا ہوں تو کیوں میں یہاں کھڑا رہوں مجھے آگے بڑھنا چاہیے۔مِمَّا تُحِبُّونَ میں ہر دو قسم کے مومن شامل ہیں ایک وہ جو اپنی فطرتی استعداد کے مطابق ایک جگہ ٹھہر نا پسند نہیں کرتے اور آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر فضل کرتا ہے اور نئی سے نئی راہیں ان پر کھولتا چلا جاتا ہے اور ایک وہ لوگ ہیں جن کی اقتصادی حالت یا جن کی ایمانی حالت اس قسم کی ہوتی ہے کہ وہ فرائض کو ادا کرتے ہوئے بھی کوفت محسوس کرتے ہیں۔فرائض کی ادائیگی بھی ان کی عادت کا ان کی فطرت کا ان کی طبیعت کا ایک جزو نہیں بنتی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بھی فضل کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں بھی ہم مِنا تحبون سے خرچ کرنے والوں میں شمار کر لیں گے یعنی ان لوگوں میں جو قربانی اور ایثار کے جذبے کو رکھتے ہوئے ، اپنے مال کو یا دوسری اللہ تعالیٰ کی عطایا کو اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں کیونکہ تم اقتصادی حالات کی وجہ سے یا اپنی ایمانی کمزوری کی وجہ سے ابھی تک سولہواں حصہ دینے میں بھی تکلیف محسوس کرتے ہو اور جو مال دیتے ہو اس کو چھوڑنے کے لئے تمہارا نفس بشاشت سے تیار نہیں ہوتا۔اس حصہ مال کے ساتھ بھی تمہاری محبت بڑی شدید ہوتی ہے اس طرح تم سچی قربانی دے رہے ہو میری راہ میں اس لئے میں تمہیں ثواب دوں گا۔