خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 554
خطبات ناصر جلد دوم ۵۵۴ خطبه جمعه ۲۸ / مارچ ۱۹۶۹ء جاتی ہے اور اس بے مثل اور واحد ویگانہ کی ذات کے پرتو نے کتاب عظیم کو بھی بے مثل بنادیا ہے۔اگر ہم اس کے احکام اور اس کی شرائع پر عمل کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم بھی ایک ایسی قوم بن جائیں گے جس کی مثال دنیا میں نہ ہوگی۔دنیا ہمارے وجود میں اس قدر حسن ، محبت اور پیار اور ہمدردی اور غم خواری اور حسن سلوک دیکھے گی کہ اس کی مثال اُمت محمدیہ کے باہر کہیں نظر نہ آئے گی۔پھر میں نے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ بعض کو اپنے قہر اور غضب کا مور دکھہراتا ہے اور انہیں ڈوری کے بھیانک نتائج بھگتنے پڑتے ہیں اور کچھ لوگ اس کی خوشنودی اور رضا کے عطر سے ممسوح کئے جاتے ہیں ان ہر دو قسم کے انسانوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے کھول کر بیان کیا ہے اور ایسے مؤثر طریق پر بیان کیا ہے کہ دل نرم ہوتے اور خَشْيَةُ اللهِ سے بھر جاتے ہیں اور سینہ و دل کی سب روحانی بیماریوں کو شفا حاصل ہو جاتی ہے اور قرآن کریم کی تعلیم ان راہوں کو روشن کرتی ہے جو اللہ کے قرب تک پہنچانے والی ہیں درجہ بدرجہ اور منزل بمنزل انسان اللہ سے قریب سے قریب تر ہوتا چلا جاتا ہے اور اپنے نیک انجام تک پہنچتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اسے اپنے آغوش میں لے لیتی ہے۔قرآن کی ہی آیات سے میں نے ان مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی تھی اور مختلف طریقوں سے اپنے بزرگوں ، اپنے بھائیوں، اپنے بچوں اور اپنی بہنوں کو اس طرح متوجہ کرنے کی کوشش کی تھی کہ قرآن سے انتہائی پیار کر وقرآن کا حسن اپنے پر چڑھانے کی کوشش کرو۔قرآن کریم کے ٹور سے منور بنو اور دنیا کو روشنی عطا کرو۔اسی غرض کے لئے ہمیں پیدا کیا گیا ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اگر چہ جماعت نے اس طرح ایک حد تک توجہ دی ہے اور ایک حد تک اس کے خوشکن نتائج بھی نکلے ہیں لیکن ہماری تسلی کے مطابق سو فیصدی اچھے نتائج نہیں نکلے اور جیسا کہ میں نے شروع میں اشارہ کیا تھا میں سمجھتا ہوں کہ اس جد و جہد کا ایک دور ختم ہو گیا ہے اور اب ہمیں ایک نیا دور شروع کرنا چاہیے۔اس کے لئے میری تجویز یہ ہے کہ اصلاح وارشاد میں ایک ایڈیشنل ناظر مقرر ہو جو تعلیم قرآنی اور جو اس کے دیگر لوازم ہیں ان کا انچارج ہو۔مثلاً وقف عارضی کی جو تحریک ہے اس کا بڑا مقصد