خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 555 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 555

خطبات ناصر جلد دوم ۵۵۵ خطبه جمعه ۲۸ / مارچ ۱۹۶۹ء بھی یہ تھا اور ہے کہ دوست رضا کارانہ طور پر اپنے خرچ پر مختلف جماعتوں میں جائیں اور وہاں قرآن کریم سیکھنے سکھانے کی کلاسز کو منظم کریں اور منظم طریق پر وہاں کی جماعت کی اس رنگ میں تربیت ہو جائے کہ وہ قرآن کریم کا جوا بشاشت سے اپنی گردن پر رکھیں اور دنیا کے لئے ایک نمونہ بن جائیں۔وقف عارضی کا نظام بھی اسی ناظر اصلاح و ارشاد کے سپر د ہونا چاہیے اور بہت سی تفاصیل ہیں ان کو انشاء اللہ مشاورت میں مشورہ کے ساتھ طے کر لیا جائے گا اور ایک نگران کمیٹی ہوگی جو مشتمل ہو ناظر اصلاح و ارشاد، ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد اور ایک تیسرے ہمارے ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد ہیں ان پر، نیز انصار اللہ کے صدر اور خدام الاحمدیہ کے صدر پر۔یہ پانچ عہدیدار ایک کمیٹی کی حیثیت سے اس بات کی نگرانی کریں کہ جماعت میں زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کی محبت پیدا کی جائے۔اس کے حقائق اور اس کے معارف سیکھنے کے سامان پیدا کئے جائیں جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق پیدا ہوتا ہے اور جماعت کے سارے دوستوں کی اور ساری بہنوں اور بچوں اور بچیوں کی اس رنگ میں تربیت کی جائے کہ وہ نہ صرف ایک علمی کتاب کی حیثیت سے قرآن کریم کو پڑھنے والے ہوں بلکہ ایک ہدایت نامہ کے طور پر اسے سمجھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے ہوں تا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا زیادہ سے زیادہ اور جلد سے جلد نزول ہو ، تا وہ مقصد جلد پورا ہو جس مقصد کے حصول کے لئے سلسلہ عالیہ احمدیہ کو قائم کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ تمام اقوامِ عالم کوقرآن کریم کے نور سے منور کیا جائے اور ہر دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا کی جائے اور اسلام جیسا کہ خدا کی بشارتیں ہیں تمام دنیا میں ایک غالب، ایک محسن ، ایک حسین مذہب کی شکل میں پوری طرح قائم ہو جائے۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب قدرتوں کا مالک ہے اور اسی کی قوت اور طاقت سے غلبہ اسلام ممکن ہوسکتا ہے اسی کی قوت پر ہمارا بھروسہ ہے۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۴ مئی ۱۹۶۹ ء صفحه ۲ تا ۴ )