خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 553
خطبات ناصر جلد دوم ۵۵۳ خطبه جمعه ۲۸ / مارچ ۱۹۶۹ء ہم میں نہ ہو تو ہم ایک مردہ لاشہ ہیں جس کا یہ حق تو ہے کہ چیلیں اور کتے اور بھیڑیے اس لاش کو کھائیں لیکن جس کا یہ حق نہیں کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے اس پر آسمانوں سے درود بھیجیں اور اس کے لئے دعائیں کریں۔میں نے اس سلسلہ میں بعض خطبات بھی دیئے تھے اور قرآن کریم کی بعض آیات کی روشنی میں جماعت کو بتایا تھا کہ یہ کتاب کس قدر حسن اور احسان سے بھری ہوئی ہے۔ان خطبات میں میں نے بتایا تھا کہ قرآنِ عظیم وہ کامل کتاب ہے جس میں سابقہ کتب سماویہ کی اُصولی ہدایتیں اور تعلیمیں ہی جمع نہیں کی گئیں بلکہ تمام علوم حقہ صحیحہ کے اصول اور بنیادی حقائق بھی اس میں پائے جاتے ہیں اور یہ ایک ایسا آسمانی صحیفہ ہے جو اپنے معانی اور فوائد کے لحاظ سے اس خصوصیت کا حامل ہے کہ فطرت صحیحہ انسانیہ کسی اور ہدایت اور تعلیم کی احتیاج اس کے بعد محسوس نہیں کر سکتی۔فطرتِ انسانی کی سب قوتوں اور استعدادوں کی کامل نشوونما کے سامان اس میں پائے جاتے ہیں اور اس کی اتباع کرنے والوں کو ربّ کریم کی طرف سے اجر کریم عطا ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی قرآنِ عظیم قرآنِ مکنون بھی ہے اور اس کے معارف کے حصول کے لئے انتہائی مجاہدہ کی ضرورت ہے۔ہوائے نفس سے دل خالی ہو تب اللہ تعالیٰ کا پیار ملتا اور انوار قرآنی سے دل معمور ہوتا ہے کیونکہ جب تک اللہ کی نگاہ میں انسان پاک اور مطہر نہ ٹھہرے دلوں پر حقائق قرآنیہ کا نزول ممکن نہیں۔پھر میں نے بتایا تھا کہ قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے وَهُوَ الْحَقُّ کہ احکامِ شریعت قرآنیہ پر عمل پیرا ہوئے بغیر روحانی رفعت اور بزرگی کا حصول ممکن نہیں کیونکہ اس اتباع کے نتیجہ میں ہی خدائے بزرگ و برتر کی صفات کی جھلک انسانی اخلاق میں نظر آتی ہے اور محسن و احسانِ باری کا یہ عکس دنیا کی نظر میں ایسے انسان کو تعریف و ثنا کا مستحق ٹھہراتا ہے اور ہر صاحب عقل و بصیرت اس کی حمد کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور تَخَلُّق بِأَخْلَاقِ اللہ سے انسان نیکی اور خیر کے وہ کام کرنے کی توفیق پاتا ہے کہ صرف اسی کی نسل ہی نہیں بلکہ آئندہ نسلیں بھی اس کے احسان کے نیچے دبی ہوئی خود کو محسوس کرتی ہیں اور اسے نیک نام سے یاد کرتی ہیں اور اس کا ذکر خیر باقی رہتا ہے۔اسی طرح میں نے بتایا تھا کہ قرآن عظیم میں کامل محسن اور کامل تعلیم اور کامل ہدایت پائی