خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 547 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 547

خطبات ناصر جلد دوم ۵۴۷ خطبه جمعه ۲۱ / مارچ ۱۹۶۹ء بتایا ہے کہ اسلامی معاشرہ احسان کی بنیاد پر قائم ہے یعنی ہر شخص اور ہر گروہ اپنے حق سے کم وصول کرنے میں بشاشت محسوس کرے اور جو حق دوسرے کے اس پر ہیں اسے اس سے زیادہ دینے میں خوش ہوا گر یہ معاشرہ قائم ہو جائے تو کوئی جھگڑا باقی نہیں رہتا مثلاً قرآن کریم نے ہر انسان کا یہ حق قائم کیا ہے کہ وہ بھوکا نہیں رہے گا یعنی کم سے کم خوراک جو اس کی زندگی کے قیام اور اس کی صحت کی بحالی کے لئے ضروری ہے وہی اسے ملنی چاہیے اگر قرآن کریم میں صرف اسی قدر بیان ہوتا تو پھر بھی جھگڑا پیدا ہونے کا احتمال تھا کہ معلوم نہیں ابھی ضرورت پوری ہوئی ہے یا نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ انسان کی زندگی کے قیام اور صحت کی بحالی کے لئے جو کم سے کم خوراک درکار ہے اس کو اس سے کچھ زیادہ دو تا کوئی جھگڑا پیدا نہ ہو، بدظنی پیدا نہ ہو، اگر مثلاً ایک کارخانہ دار ایک مزدور کو اس کے حق سے کچھ زائد دینے پر اصرار کرے اور مزدور سے اپنے حق سے کچھ کم لے رہا ہو تو بڑا پر سکون اور اطمینان بخش معاشرہ پیدا ہو جاتا ہے اگر کوئی مزدور اپنے حق سے کچھ لینے پر بھی غصہ میں نہ آئے اور دوسرے کو اس کے حق سے بھی زیادہ دینے کو تیار ہو تو پھر بھی کوئی جھگڑا پیدا نہیں ہو گا یعنی ہر شخص کی یہ خواہش ہونی چاہیے کہ میں نے دوسرے کو اس کے حق سے زیادہ دینا ہے۔ایک سرمایہ دار کی یہ کوشش ہوگی کہ مزدور یا کسان کو اس کے حقوق سے زیادہ مل جائے اور مزدور اور کسان یہ کوشش کریں گے کہ اسلامی تعلیم کے مطابق دوسروں کا اس پر جوحق بنتا ہے ہم اس سے کچھ زیادہ ہی دے دیں تو کوئی حرج نہیں اگر اس بات میں مقابلہ ہو جائے تو بڑا ہی حسین اور اطمینان بخش معاشرہ قائم ہو جاتا ہے۔اللہ تعالی خالق کل مالک کل کے مرکزی نقطہ سے نکلا ہوا پہلا خط ( یعنی حقوق اللہ ) جو ہے اس کا بھی ایک اثر اور ایک عکس آپس کے تعلقات پر پڑتا ہے اور اس آیت سے جو میں نے تلاوت کی ہے تین باتوں کا پتہ لگتا ہے جن کی طرف میں مختصراً اشارہ کر دیتا ہوں۔اصل بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو حقوق بندہ پر ہیں ان کو ادا کیا جائے وہ ہمیں پیدا کرنے والا ہمیں زندگی بخشنے والا، ہمیں قائم رکھنے والا ، ہماری ربوبیت کرنے والا، ہمیں استعداد میں بخشنے والا اور ان استعدادوں کو کمال تک پہنچانے والا اور ساری دنیا کو ہماری خدمت پر لگانے والا