خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 546 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 546

خطبات ناصر جلد دوم ۵۴۶ خطبه جمعه ۲۱ / مارچ ۱۹۶۹ء فرض ہے۔اسلام نے اللہ تعالیٰ کی تمام ایسی صفات کا ذکر کیا ہے جن کا تعلق مخلوق کے ساتھ ہے اور وق تشبیہی صفات کہلاتی ہیں۔اس مرکزی نقطہ یعنی اللہ کے تصور سے دو خط ممتد ہوئے یعنی دو لکیریں نکلیں ایک خط یا لکیر کو ہم وہ صراط مستقیم“ کہتے ہیں جو بندے کو خدا تک پہنچاتا ہے یعنی حقوق اللہ کی ادائیگی اور دوسرا وہ خط ہے جو بندہ کو بندہ کے ساتھ اخوت اور محبت اور ہمدردی اور غم خواری اور احسان اور ايتاى ذِي الْقُربى “ کے رشتوں کے ساتھ باندھتا ہے اسے ہم حقوق العباد کا راستہ کہتے ہیں یعنی وہ راستہ جس پر چل کر اسلام کی تعلیم کے مطابق حقوق العباد ادا کئے جانے چاہئیں۔ان دونوں خطوط یا لکیروں کا ذکر اس آیہ کریمہ میں ہے جو ابھی میں نے تلاوت کی ہے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی تعلیم دو حصوں میں منقسم ہو جاتی ہے ایک یہ کہ اللہ کی رضا کے لئے اپنی تمام خواہشات کو ترک کر دیا جائے اور اس کی رضا کے لئے اپنے پر موت وارد کی جائے اور اس سے ایک نئی اخلاقی اور روحانی زندگی حاصل کی جائے۔اس حصّہ کا ذکر مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ میں ہے دوسرا خط یا لکیر جو اس مرکزی نقطہ سے نکلی وہ وَهُوَ مُحْسِنُ “ کا خط یا لکیر ہے اسلام کی مادی ، تمدنی ، معاشی ، سیاسی ، اقتصادی تعلیم اسی سے تعلق رکھتی ہے۔د در ور احسان کے ایک معنی ہیں خوبصورت بنانا اور دوسرے معنی ہیں نیک عقائد اور نیک تعلیم کا علم حاصل کرنا اور ان پر عمل کرنا۔انسان کو انسان سے باندھنے والے اس خط کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان کیا ہے کہ ہم نے انسانی معاشرہ کی جو تعلیم دی ہے اگر تم اس پر چلو تو دنیا میں ایک نہایت حسین اور جمیل معاشرہ قائم ہو جائے گا تو اس معاشرہ کی بنیا داحسان پر ہے۔احسان کے معنی ہیں جتنا حق دوسرے کا مجھ پر ہے میں اسے اس سے زیادہ دوں اور جتنا حق میرا دوسرے پر ہے میں اس سے کم حق اس سے وصول کروں۔جتنے جھگڑے آج دنیا میں یا آج کل بدقسمتی سے ہمارے ملک میں پیدا ہو گئے ہیں یہ احسان کی نیکیشن (Negation) یعنی نفی ہے یعنی ہر ایک شخص یہ کہتا ہے کہ مجھے میرے حق سے زیادہ دو یا وہ یوں کہتا ہے کہ جو میرا حق ہے وہ مجھے دو اور جو تمہارا حق ہے وہ میں دینے کے لئے تیار نہیں اور اس طرح فتنہ کا دروازہ کھل گیا ہے۔اسلام نے ہمیں یہ