خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 548 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 548

خطبات ناصر جلد دوم ۵۴۸ خطبه جمعه ۲۱ / مارچ ۱۹۶۹ء ہے ہر آن ہمارا ہر ذرہ اس کے احسانوں کے نیچے دبا ہوا ہے ہمیں اس کے شکر گزار بندہ کی حیثیت سے زندگی کے دن گزارنے چاہئیں اور جو شخص ان حقوق کی ادائیگی میں اپنے نفس پر ایک موت وارد کرتا اور اپنی خوشیوں کو اس کی رضا کے لئے چھوڑتا ہے اس کے اس فعل کا اثر انسان کے آپس کے تعلقات پر بھی بہت گہرا پڑتا ہے مثلاً پہلی بات ہمیں ایسے مسلم کے متعلق جو بلی مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلہ کی تعلیم پر کار بند ہے یہ نظر آئے گی کہ وہ ایک خوف زدہ دل سے اپنے مخالف کی بات سنے گا اور تحمل سے اس کو جواب دے گا۔جو شخص خوف زدہ دل کے ساتھ اپنے مخالف کی بات نہیں سنتا اس کی انانیت ابھی باقی ہے اور جو قتل کے ساتھ اسے جواب نہیں دیتا اس کا نفس ابھی موٹا ہے اس نے ابھی اپنے نفس کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان نہیں کیا۔دوسرا اثر ان حقوق اللہ کی ادائیگی کے نتیجہ میں انسانی معاشرہ پر یہ پڑتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو دیانت داری کے ساتھ اور ایثار اور قربانی اور اخلاص کے ساتھ ادا کرنے والے ہیں اور وحدت باری میں گم اور فنا ہیں وہ خشک جھگڑوں میں کبھی نہیں پڑتے وہ سخت گوئی اور بدزبانی کو کبھی اپنا شیوہ نہیں بناتے وہ دوسروں پر وحشیانہ حملے نہیں کیا کرتے ان کو تو ہر وقت اپنی فکر رہتی ہے وہ اپنے نفسوں کی اصلاح میں لگے رہتے ہیں ان کا دل ہر وقت دھڑکتا رہتا ہے کہ کہیں کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جائے کہ جس کے نتیجہ میں وہ اپنے محبوب حقیقی سے سچا تعلق پیدا کرنے میں نا کام ہو جائیں اور اس کے غضب کو مول لے لیں۔غرض حقوق اللہ کی ادائیگی کے نتیجہ میں باہمی محبت اور پیار اور انکساری اور عاجزی کی فضا پیدا ہوتی ہے اور انسان ایک دوسرے کو کھانے کو نہیں دوڑتا۔زبانیں تیز نہیں کی جاتیں بلکہ دعائیں دی جاتی ہیں کیونکہ سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔تیسرا اثر جو حقوق اللہ کی ادائیگی کے نتیجہ میں انسانی معاشرہ پر پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص کسی کے عقائد اور خیالات اور نظریات کا مخالف ہو وہ اپنے مخالف کی جان اور مال اور عزت کو تباہ کرنے کے پیچھے نہیں پڑتا ، اس کا دشمن نہیں بن جاتا اور اسے نابود کرنے کی کوشش نہیں کرتا، وہ تشدد کا نعرہ نہیں لگا تا اور نہ ظالمانہ راہوں کو اختیار کرتا ہے بلکہ انصاف اور خدا ترسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھتا ہے وہ پیار اور محبت سے اپنے نظریات کو قائم کرنا چاہتا ہے اور پیار اور محبت کے ساتھ اپنے حقوق کو لینا