خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 511 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 511

خطبات ناصر جلد دوم ۵۱۱ خطبہ جمعہ ۱۴ فروری ۱۹۶۹ء معنی ہوتے ہیں کہ اللہ کے احکام کا جوا اپنی گردن پر رکھ لے اور جن باتوں سے اللہ نے اسے روکا ہے ان سے وہ بچے ، یہ معنی ہیں اللہ کی مدد کرنے کے اور یہی معنی جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں صبر کرنے کے ہیں۔یعنی صبر اور نصرت ایک مفہوم کے لحاظ سے قریباً ہم معنی ہیں تو اللہ تعالیٰ اگر چہ یہاں نصرت کا لفظ استعمال کرتا ہے لیکن اس معنی میں استعمال کرتا ہے جس معنی میں صبر کے لفظ کو بھی استعمال کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بالفاظ دیگر یہ فرمایا کہ اِنْ تَنْصُرُوا الله “ اگر تم صبر سے کام لو گے ینصرکم تو وہ تمہاری مدد کو آئے گا اور اُس کی مد کا ایک نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہیں نیکیوں پر دوام حاصل ہو جائے گا۔تمہیں مصائب کے برداشت کرنے کی اور دکھوں اور سازشوں اور دشمن کے مکر کے برداشت کرنے کی اور زبان کو قابو میں رکھنے کی دائمی قوت عطا ہو جائے گی ، ثبات قدم عطا ہوگا یعنی یہ نہیں کہ ایک سال تو تمہیں طاقت ملی اور اگلے سال پھر تم جہنم میں چلے جاؤ بلکہ جب تم اللہ کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے تو تمہارا ثبات قدم تمہیں اس جنت سے پھر نکلنے نہیں دے گا کیونکہ وقت جو بھی تقاضا کرے گا تم اس کو پورا کرنے والے ہو گے۔آج کا دن اسلام کے غلبہ کے لئے جو تقاضا کرتا ہے ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اس کو پورا کرے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر صبر سے کام لو گے تو تمہیں ثبات قدم عطا ہوگا۔پھر تم نیکیوں پر ایک دوام پاؤ گے اور رضائے الہی کے حصول کے بعد تمہیں اس کی ناراضگی کبھی نہیں ملے گی۔پھر فرمایا:۔وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ‘ اسلام کا جو منکر اور مخالف ہے وہ اسلام کو کمزور کرنے کے لئے جو بھی تدبیر کرے اس کے خلاف ہماری مدد کر۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں مدد تو کرتا ہوں لیکن میں مددان لوگوں کی کرتا ہوں جو میرے احکام کو مانتے اور میری خاطر اور میرے حضور ہر قسم کی مطلوبہ قربانیوں کو پیش کرتے ہیں اور تم اس کی توفیق بھی مجھ سے ہی پاسکتے ہو اس لئے تم دعا کرتے رہا کرو۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ ثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ پس میں آج اس دعا کے کرنے کی تحریک کر رہا ہوں۔اس دعا کے جو وسیع معانی ہیں میں