خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 512
خطبات ناصر جلد دوم ۵۱۲ خطبہ جمعہ ۱۴ فروری ۱۹۶۹ء نے ان کو ایک حد تک بیان کر دیا ہے۔ان معانی کو ذہن میں رکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور جس حد تک ممکن ہو یہ دعا کریں۔میں چاہتا ہوں کہ آپ دن میں کم از کم ۳۳ بار یہ دعا کیا کریں۔اس پر زیادہ وقت نہیں لگے گا اور یہ کام زیادہ قربانی نہیں چاہتا لیکن اگر آپ ان معانی کو ذہن میں رکھ کر یہ دعا کریں تو یہ بات بڑی برکتوں کا موجب ہوگی۔اس وقت ایک بڑی وسیع اور گہری سازش اسلام کے خلاف ہو رہی ہے جو دراصل پہلے عیسائیت کے خلاف تھی جو بہت حد تک کامیاب ہوگئی۔اب اس نے اپنا رُخ اسلام کی طرف پھیرا ہے اور اس سازش کی تفاصیل جب سامنے آتی ہیں تو انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انسان کو اپنی کمزوری اور بے بسی کا شدت سے احساس ہونے لگتا ہے اور انسان کا ذہن پریشان ہو جاتا ہے کہ اتنی بڑی بین الاقوامی سازش کا اسلام ہمارے ذریعہ سے ( کیونکہ خدا نے ہمیں اس کام کے لئے منتخب کیا ہے ) کس طرح مقابلہ کرے گا۔تب اللہ تعالیٰ ہمت بڑھانے کے لئے اور عزم کو پیدا کرنے کے لئے اور اپنے وعدوں پر پختہ یقین پیدا کرنے کے لئے ان دعاؤں کی طرف توجہ دلا دیتا ہے اور میرا یہ فرض ہے کہ جماعت کو کہوں کہ یہ دعائیں کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان دعاؤں کے نتیجہ ہی میں اگر وہ خلوص نیت سے کی جائیں اور عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے کی جائیں۔ہمیں ان ذمہ داریوں کو نبھانے کی توفیق عطا کرے گا جو اس نے ہم پر ڈالی ہیں۔ہمیں ہر معنی میں، ہر حالت میں ، ہر وقت میں صبر کی تو فیق عطا کرے گا ثبات قدم دے گا اور ایسے افعال کی توفیق دے گا کہ جس کے نتیجہ میں اس کی مدد انسان کو مل جاتی ہے۔اگر یہ دعائیں نہ ہوتیں۔اگر اللہ تعالیٰ کا سہارا نہ ہوتا اگر اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں پر یقین نہ ہوتا تو انسان ایک لحظہ کے لئے سوچ نہ سکتا کہ اسلام کے خلاف اتنی عظیم سازش ناکام ہو کر رہ جائے گی۔مجھے ایک اور سازش کی تفاصیل کا ابھی چند دن ہوئے علم ہوا اور جب میں نے پڑھا میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔پھر جب میں نے قرآن کریم کو دیکھا تو ہر وہ بات جس کا ذکر سازش میں کیا گیا ہے اس کارڈ میں نے قرآن کریم میں پالیا اور اس سے دل کو تسلی ہو گئی کہ اس عَلامُ الْغُيُوبِ نے اس سے قبل کہ اسلام کے خلاف اس پرانی سازش کی تفصیل کا اظہار ہو ہمارے دل کی تسلی کے لئے