خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 510
خطبات ناصر جلد دوم ۵۱۰ خطبہ جمعہ ۱۴ فروری ۱۹۶۹ء باندھیں لا يضركم وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔اگر تم صبر سے کام لو گے۔اگر تم حقیقتاً اللہ کی پناہ میں آ جاؤ گے تو شیطان اور اس کی ذریت کے وار کبھی تمہارے خلاف کامیاب نہیں ہوں گے پس اس کی پناہ میں آنے کی کوشش کرو۔اس کی ہدایت کے مطابق صبر کے شامیانوں کے نیچے خود کو لے آؤ۔دوسرے اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی ثبت اقدامنا ، پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صبر کرو اور صبر پر دوام کے حصول کے لئے بھی دعا کر و یعنی یہ بھی دعا کرو کہ تمہیں کمال صبر کی توفیق ملے اور یہ بھی دعا کرو کہ تمہیں صبر پر دوام کی توفیق بھی ملے۔ہمیشہ ملتی رہے یہ نہیں کہ چند سال تو خدا کے لئے تکالیف برداشت کر لیں اور پھر دل ٹوٹ گیا اور ہمت ہار بیٹھے اور جو کچھ حاصل کیا تھا وہ بھی کھو بیٹھے اور انجام بخیر نہ ہوا۔اس واسطے ثبات قدم کے لئے دعائیں کرتے رہا کرو اور ثبات قدم خدا کے فضل سے اس کو ملتا ہے جو صبر سے کام لیتا ہے۔سورۃ محمد میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرُكُمْ وَيُثَبِّتُ أَقْدَامَكُمُ (محمد : ۸) اے مومنو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو یقینا تمہیں اس کی مدد حاصل ہو جائے گی اور جب اس کی مدد حاصل ہو گی تو تمہیں ثبات قدم بھی مل جائے گا۔یہاں اِنْ تَنْصُرُوا اللهَ “ کا فقرہ استعمال کیا گیا ہے اور مفردات راغب ہمیں بتاتی ہے کہ جب قرآن کریم نے یہ محاورہ استعمال کیا ہو کہ انسان اگر اللہ کی مدد کرے۔وہ اللہ جو کہ قادر مطلق اور غنی اور بے نیاز ہے اس کو اللہ کی مددملتی ہے تو جب یہ محاورہ استعمال کیا گیا ہو کہ جو شخص اللہ کی مدد کرے تو یہ نتیجہ نکلے گا یا وہ نتیجہ نکلے گا تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کا محتاج ہے بلکہ اس کے معنی ہوتے ہیں۔اول یہ کہ اس کے بندے کی مدد کرے۔دوسرے یہ کہ اس کے دین کی مدد کرے۔تیسرے یہ کہ اپنی مدد کرے اللہ کی قائم کردہ حدود کی حفاظت کرنے سے اپنی مدد کرے اس عہد کی رعایت کرنے سے جو اس نے اپنے رب سے باندھا ہے پس اللہ کی مدد کرنے کے یہ