خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 320 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 320

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۶۸ء محض مغفرت کا سلوک کرنا۔اِنْ تُعَذِّبُهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ والا سلوک نہ کرنا حدیث میں آیا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاجزی اور زاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ گو میں جانتا تو ہوں (وَ رَبُّكَ أَعْلَمُ اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں لیکن ) تمہیں میرا یہ حکم ہے کہ ( محمدصلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ کس وجہ سے ان پر اتنی رقت طاری ہو گئی ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور دریافت کیا تو آپ نے بتایا کہ امت کے لئے جوفکر میرے دل میں ہے اس کے لئے جو مجھے تڑپ اور خیال ہے کہ میں صَلِّ عَلَيْهِمْ کا حکم کما حقہ ، پورا کروں اس کی وجہ سے میں عاجزی اور رقت کے ساتھ اپنے رب کے حضور دعا کر رہا ہوں جب جبریل علیہ السلام یہ جواب لے کر اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچے ( اور اللہ تعالیٰ تو بڑی ہی علیم ہستی ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں اس نے فرشتوں کو بتا نا تھا کہ دیکھو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا بلند مقام ہے ) اس نے جبریل علیہ السلام سے کہا کہ واپس جاؤ اور محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے کہو اِنَّا سَتُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ وَلَا نَسُوءُكَ۔کہ تیری اُمت کے متعلق جو تیری نیک خواہشات ہیں ہم وہ پوری کریں گے اور تجھ کو اس معاملہ میں بھی راضی کریں گے اور جہاں تک اس اُمت کا سوال ہے تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی یعنی باوجود اس کے کہ بعثت نبوی سے قیامت تک اس اُمت کا زمانہ پھیلا ہوا ہے اور دنیا کے ہر ملک میں، ہر رنگ ونسل میں اپنی اپنی طبیعتوں اور عادات کے ساتھ اُمت مسلمہ کے افراد پیدا ہونے تھے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ جو میری خواہش ہے کہ تیرے وجود میں گم ہونے والے اس مقام کو پائیں اور تیری بھی یہی خواہش ہے وہ مقام ان میں سے بہتوں کو ملے گا اور اس سلسلہ میں تجھے دکھ نہیں پہنچے گا بلکہ تمہاری مسرت اور خوشی کے سامان پیدا کئے جائیں گے۔یہ چند مثالیں ہیں جو میں نے دی ہیں اور نہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کے لئے اس کثرت سے دعائیں کی ہیں کہ حقیقت یہی ہے کہ آپ کے علاوہ جب بھی کسی کی دعا قبول ہوتی ہے تو وہ اس لئے قبول ہوتی ہے کہ وہ اس فرد واحد کی دعا نہیں ہوتی بلکہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہوتی ہے اور جس امت کے ساتھ اس قدر مقبول ہستی کی دعائیں ہوں اس کے لئے یہ ممکن