خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 319 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 319

خطبات ناصر جلد دوم ۳۱۹ خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۶۸ء حکم کی تعمیل میں امت محمدیہ کے لئے اس کثرت کے ساتھ دعائیں کی ہیں اور ایسی دعائیں کی ہیں جو اپنی وسعت کے لحاظ سے بھی بے نظیر ہیں اور اپنی گہرائی کے لحاظ سے بھی حیران کن ہیں ان کی ا چند ایک مثالیں میں اس وقت آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں آپ نے فرمایا۔اللَّهُمَّ خُذْ بِنَوَامِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلى طَاعَتِكَ یعنی اے خدا! تو اپنا فضل کر کہ اس اُمت سے بشری کمزوریاں ظاہر ہی نہ ہوں اور دنیا کی نگاہ میں ایسا لگے کہ تو نے ان کو پکڑ کر اپنی اطاعت کے لئے اپنے ساتھ کھینچ کر لگا لیا ہے پھر فرمایا کہ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي - (ثَلَاثًا) اے ہمارے رب ! میری اُمت سے مغفرت کا سلوک کرنا میری اُمت سے مغفرت کا سلوک کرنا میری اُمت سے مغفرت کا سلوک کرنا۔پھر آپ نے فرمایا کہ اَللَّهُمَّ ارْحَمْ خُلَفَانِ الَّذِينَ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي الَّذِينَ يَرْمُونَ أَحَادِيثِى وَسُنَّتِي وَيُعَلِّمُونَهَا النَّاسَ (جامع الصغير) اے ہمارے رب ! میرے وہ خلفاء اور نائب جو میرے بعد دنیا میں پیدا ہوں تو ان سے رحمت کا سلوک کرنا اور ان کو اس بات کی توفیق دینا کہ وہ تیری رحمت کے مستحق ٹھہریں تو انہیں اس بات کی توفیق دینا کہ وہ میری سنت کا احیا کریں اور میری سنت پر چلانے کے لئے امت مسلمہ کی تربیت کریں پھر ایک حدیث میں آتا ہے کہ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جوقول بیان ہوا ہے کہ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّى وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رحِيم - (ابراهيم : ۳۷) اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کا قول ہے کہ ان تُعَذِّبُهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَ إِنْ تَغْفِرُ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - (المائدة : ١١٩) ان آیات کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے تھے کہ آپ پر رقت طاری ہو گئی اور آپ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور کہا۔اللَّهُمَّ أُمَّتِي اللَّهُم أُمَّتِي وَبَكُى - اے میرے رب ! میری اُمت کے ساتھ محض مغفرت کا سلوک کرنا میری اُمت کے ساتھ