خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 321
خطبات ناصر جلد دوم ۳۲۱ خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۶۸ء ہی نہیں کہ وہ ساری کی ساری کسی وقت میں صراط مستقیم کو چھوڑ کر ضلالت کی راہوں کو اختیار کرے جیسا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔غرض جب اس قسم کا عظیم روحانی وجود اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا کہ جس میں کروڑوں اربوں انسانوں نے شامل ہو کر جسم کے ذروں کی طرح اس جسم کو بنانا تھا، جس کا زمانہ قیامت تک ممتد اور جس کی وسعت زمین کو احاطہ میں لئے ہوئے تھی اس میں ایک خطرہ بھی تھا اور وہ یہ کہ بیدار بوں ارب افراد اپنی تمام بشری کمزوریوں کے ساتھ اس وجود کا حصہ بننے والے تھے اس لئے ضروری تھا کہ کوئی ایسا سامان پیدا کیا جائے کہ ان کی بشری کمزوریاں یا تو ظاہر نہ ہوں اور اگر ظاہر ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت کچھ اس طرح انہیں ڈھانپ لے کہ ان کے بدنتائج نہ نکلیں۔اس کے بغیر اس مقصد کو حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا جس مقصد کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں مبعوث ہوئے۔غرض اللہ تعالیٰ نے اس بات کا کہ امت محمدیہ میں شامل ہونے والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درخت وجود کی شاخیں اس طرح محفوظ کر لی جائیں کہ اگر بشری کمزوری ظاہر ہو جائے تو اس کا نتیجہ امت کے لئے بحیثیت مجموعی بُرا نہ نکلے یا اللہ تعالیٰ اس رنگ میں ان کی تربیت کرے اور اس طرح پر ان کی فطرت کو اپنی طاقت سے سہارا دے کہ ان سے کوئی بشری کمزوری ظاہر نہ ہو اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کیا (جس کا ذکر وضاحت سے قرآن کریم میں آتا ہے ) کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ملائکہ مقربین اور وہ ملائکہ بھی جو ان کے ساتھ مختلف کاموں پر لگے ہوئے ہیں وہ مومنوں کی جماعت کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں اور ان کی دعا یہ ہے کہ اے ہمارے رب! تیری رحمت بھی ہر چیز پر حاوی ہے اور تیرا علم بھی ہر چیز پر حاوی ہے اس لئے ہماری یہ دعا ہے کہ فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ جس شخص سے بشری کمزوری سرزد ہو جائے اور پھر وہ ندامت کے ساتھ تو بہ کا دروازہ کھٹکھٹائے تو اپنی مغفرت کی چادر میں اس کو ڈھانپ لے کیونکہ تیری رحمت بڑی وسیع ہے اگر وہ تیری راہوں کو اختیار کرنا چاہے اور تیرے قُرب کے حصول کے لئے کوشش کرنا چاہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کا بدلہ پوری طرح اور پوری کوشش کے ساتھ ادا کرنا چاہے وہ اتباع سبیل کرنا چاہے تیرا علم وسیع ہے وہ خود بھی نہیں جانتا کہ