خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 188 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 188

خطبات ناصر جلد دوم ۱۸۸ خطبہ جمعہ ۲۱؍جون ۱۹۶۸ء ایک شخص کھڑا ہوتا ہے خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ سامنے ہوتا ہے کہ ساری دنیا نے میری مخالفت کرنی ہے۔اس کو پتہ ہوتا ہے کہ دنیوی سامان میرے پاس نہیں ہیں کتنا بڑا توکل کا مقام ہے جو اسے حاصل ہوتا ہے ساری دنیا پر اپنے رب کو وہ ترجیح دیتا ہے اس پر وہ تو گل رکھتا ہے پھر دنیا اپنا زور لگا لیتی ہے لیکن اس شخص کو بے عزت اور نا کام نہیں کر سکتی۔بے عزتی تو ناکامی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دعوی کیا کوئی بھی ساتھ نہیں تھا۔آدمی برداشت نہیں کر سکتا اس زمانے کے حالات جب اپنے ذہن میں لاتا ہے آپ نے خود نثر اور نظم اُردو اور عربی میں لکھا ہے کہ گھر والے پرواہ نہیں کرتے تھے وہ جو برابر کا شریک تھا اس کو اپنے دستر خوان کے ٹکڑے بھیج دیتے تھے یہ عزت اس خدا کے برگزیدہ کی تھی اپنے خاندان کے دل میں۔لیکن خدا نے جو وعدے دیئے وہ پورے کئے۔آپ نے فرمایا اپنے زمانہ میں کہ کبھی تو دسترخوان کے ٹکڑے مجھے ملتے تھے اب ہزاروں خاندان ہیں جو میری وجہ سے پیل رہے ہیں انہیں روٹی مل رہی ہے۔اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ لاکھوں خاندان ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل دنیا میں بڑے امیر بنے ہوئے ہیں ایک باور چی غالباً پانچ یا دس روپے ماہوار تنخواہ لے رہے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت کرتے ان کے بہت سارے لڑکے تھے اور میرا نہیں خیال کہ ان میں سے کسی لڑکے نے بھی سات آٹھ سو ہزار روپے سے کم ماہانہ حاصل کیا ہو اللہ سے بطور انعام کے۔ایسے باپ کے بیٹے دنیا میں عرب تیں بھی ان کو ملیں مال بھی ملا پھر ان میں سے جو صداقت پر جاں نثار رہے۔انہوں نے روحانی طور پر بھی انعام حاصل کئے لیکن دنیا میں بھی خدا تعالیٰ نے ان کا قرض نہیں رکھا قرض کیا تھا سات روپے میں سے اٹھنی (آٹھ آنے) دیتے ہوں گے شاید چوٹی دیتے ہوں گے یا دوٹی دو آنے دیتے ہوں گے اور اس دوٹی کے بدلہ میں سارے ٹبر کو اگر ملا لیا جائے تو شاید دس پندرہ ہزار روپیہ مہینے کا انعام اللہ تعالیٰ نے یہ پیشن لگا دی کہ تمہارے باپ نے میرے مسیح کی خدمت کی تھی اللہ تعالیٰ کی ایک صفت شکور کی بھی ہے بڑا قدر کرنے والا ہے کیا خدمت کی تھی دو آ نے وہ دیتا تھا احمدیت کی ترقی کے لئے یا چار آنے وہ دیتا