خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 187
خطبات ناصر جلد دوم ۱۸۷ خطبہ جمعہ ۲۱؍جون ۱۹۶۸ء رہے ہوتے ہیں کہ اے خدا ہمیں مار دے ہم سے یہ تکلیف برداشت نہیں ہوئی جاتی تو ان نتیجوں کو کوئی شخص بھی اپنی سنسز (Senses) میں اچھا نہیں کہہ سکتا۔نتیجہ برا نکلے گا۔جو شخص اپنی سینس (Sense) میں نہ ہو اس کے اوپر تو اللہ تعالیٰ کا یہ قانون اخلاقی اور روحانی جو ہے وہ چلتا ہی نہیں۔ہمارے ایک صاحب کا دماغ خراب تھا ایک دفعہ قادیان کی بات ہے کسی کا سائیکل اٹھا کر لے گئے اپنے اس بے ہوشی کے عالم میں۔وہ پیچھے دوڑا۔اس نے پکڑ لیا۔کی بے وقوفی۔مجھے بڑا اس وقت غصہ آیا تھا کہ ایک شخص کا پتہ ہے کہ اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں۔سائیکل تم نے پکڑ لیا ہے لے آؤ۔ساتھ اس کو جوتیاں بھی ماریں۔جوتی اُتار کے۔اب یہ صاحب کھڑے ہوئے پانچ دس جوتیاں کھا کے اور ایک زور سے قہقہہ لگایا اور کہنے لگے تم سمجھتے تھے کہ مجھے جوتیاں پڑ رہی تھیں اندر سے تو تمہیں پڑ رہی تھیں تو اگر کوئی شخص احمق ، خدا کی گرفت کو یہ کہہ دے کہ اندر سے میں ہی کامیاب اور مجھے ہی انعام مل رہا ہے تو یہ وہ اس کا جنون ہے بڑی قابلِ رحم حالت ہے اس کی لیکن کوئی شخص اپنی سنسز (Senses) میں بری چیز کو جو اس کے لئے دکھ اور عذاب اور کرب اور گھبراہٹ کا باعث بن رہی ہے اچھا نہیں کہ ستا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اچھے مقاصد کے حصول کے لئے کچھ نیک راہیں معین کی گئی ہیں ان راہوں پر چلو تو کیا دیکھو گے آگے۔تمہیں کیا انعام ملے گا۔خالی یہ نہیں کہا انعام ملے گا ان لوگوں کا انعام ملے گا جو تم سے پہلے گزرے جنہوں نے ہم سے انعام حاصل کئے اور تمہیں پتہ ہے کہ کس قسم کے انہوں نے انعام حاصل کئے انبیاء ہیں، صدیق ہیں، شہید ہیں، صالح ہیں انہوں نے اس دنیا میں بھی انعام حاصل کئے تم نہیں یہ کہہ سکتے کہ جو مثال ہمارے سامنے رکھی جارہی ہے وہ ہم سمجھ نہیں سکتے کیونکہ ان انعاموں کا جن کا ذکر کیا جارہا ہے دوسری زندگی میں ملنا ثابت ہے ان لوگوں کو اس دنیا میں بھی انعام ملا۔دنیا نے ان کو بے عزت کرنا چاہا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بے عزت نہیں ہونے دیا۔ہر قسم کی عزت ان کو عطا کی سب سے زیادہ عزت تو اللہ تعالیٰ کی آنکھ میں رضا کی چمک جب بندہ دیکھ لیتا ہے تو اس سے زیادہ اس کو کسی اور عزت کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔انبیاء ہیں ساری دنیا مخالفت کرتی ہے