خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 189
خطبات ناصر جلد دوم ۱۸۹ خطبہ جمعہ ۲۱؍جون ۱۹۶۸ء تھا اور آج میں اس کا بدلہ دیتا ہوں بدلہ کیا دیتا ہوں دس ہزار روپیہ ماہوار یا پندرہ ہزار روپیہ ماہوار یا نہیں ہزار روپیہ ماہوار۔ڈاکٹر سلام ہیں ان کے والد د نیوی لحاظ سے مال کے لحاظ سے معمولی درجے کے انسان ہیں زندہ ہیں ابھی ، بڑی دعا کرنے والے ہیں ، بڑے مخلص ہیں، احمدیت کی ترقی کے لئے دعائیں کیں، وقت خرچ کیا، جوانی کا سارا وقت۔ایسے مخلصین کوئی منٹ اپنی زندگی کا ضائع نہیں ہونے دیتے تھے یعنی جب حقوق العباد ادا کر چکتے تھے اگر حکومت کے ملازم ہیں تو حکومت کے جو پیسے لیتے تھے ان پیسوں کی وجہ سے تنخواہ کی وجہ سے جتنا وقت خرچ کرنا ان پر فرض ہوتا تھا جب وہ وقت خرچ کر لیتے تھے تو پھر وہ سمجھتے تھے کہ سارا وقت تو خدا کا ہے خدا نے کہا ہے کہ جب پیسے او دیانت داری سے کام کرو ہم نے اس کا یہ کہنا پورا کر دیا اب ہم خدا کے لئے اپنا وقت نکالتے ہیں رات کے دس دس گیارہ گیارہ بارہ بارہ بجے تک میرے علم میں سینکڑوں احمدی ایسے ہیں جو اپنا وقت احمدیت کے لئے خرچ کر رہے ہیں جتنی توفیق تھی پیسے خرچ کرتے تھے اب ان کے بچے کو خدا نے اتنی عزت دی ہے دنیوی لحاظ سے۔اصل عزت تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں انسان رکھتا ہے وہ بھی خدا کے فضل سے انہیں حاصل ہے لیکن دنیا کی نگاہ بھی جب احمدیت پر پڑتی ہے تو اس کو یہ نظر آتا ہے کہ ایک معمولی انسان کا بچہ تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو اتنا عجیب دماغ دیا کہ وہ مادی دنیا کے ہر گوشے اور کونے کھدرے میں نگاہ ڈالتا پھرتا ہے اور چھپی ہوئی چیزوں کو وہ باہر نکال رہا ہے اور وہ دنیا، ساری دنیا مثلاً جو اسلام کو مٹانا چاہتی ہے اس کی عزت کئے بغیر نہیں رہ سکتی اصل تو یہ شکل ہمیں نظر آرہی ہے نا! وہ دنیا جو خدا کا نام اس دنیا سے مٹانا چاہتی ہے دہر یہ دنیا، روس کی دنیا، اس شخص کی عزت کرنے پر مجبور ہے تو انہیں خدا نے کہا میرا نام مٹانے کی کوشش تو کرتے رہنا پہلے میرے اس بندے کی عزت کر لو یہ بھی ایک چپیڑ ہے جو ان کے منہ پر خدا تعالیٰ ما رہا ہے اس وقت۔کہ تم میرا نام مٹانا چاہتے ہو میں نے اپنے اس بندے کو جو مجھ پر ایمان لایا ہے حقیقی ایمان اور جس کو میری توفیق سے خلوص حاصل ہوا ہے جسے قلب سلیم دیا گیا اس کو ذہن رسا بھی ہم نے دے دیا اور اب اس کا تم مقابلہ نہیں کر سکتے اس کی عزت اور احترام کرنے پر تم مجبور ہو گے تو میرا نام تم سے