خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 904
خطبات ناصر جلد دوم ۹۰۴ خطبہ جمعہ ٫۳اکتوبر ۱۹۶۹ء انسان کو اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف متوجہ نہیں ہونا چاہیے۔جب ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کے ان جلوؤں کو جنہیں قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے دیکھتے ہیں اور ان پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جزا یا بدلہ دینے کے لئے جو جلوے ہیں وہ اصولی طور پر ان آیات میں بیان ہوئے ہیں جن کی میں اس وقت مختصراً تفسیر بیان کروں گا اللہ تعالیٰ سورہ عنکبوت میں فرماتا ہے وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ۔(العنكبوت: ۸) کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے جزا اور بدلہ دینے کے سلسلہ میں اس طرح ظاہر ہوتے ہیں کہ انسان کے اعمال کی جو بہترین جزا ہو سکتی ہے وہ جزا اللہ تعالیٰ اسے عطا کرتا ہے یعنی انسانی اعمال کی جزا یا بدلے کا تعلق ان جلوؤں کے ماتحت ہوتا ہے جس کا ذکر اس آیہ کریمہ میں کیا گیا ہے۔پس ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب ہماری منصوبہ بندی بدلہ دینے کے فیصلے کرے تو یہ فیصلے بہترین بدلہ کے مظہر ہونے چاہئیں۔بہترین بدلہ محض مزدوری یا اُجرت کے اصول پر نہیں دیا جا سکتا ایک تو اس لئے کہ یہ ایک اندھا اصول ہے اس کی رُو سے مثلاً ایک اچھے کام کرنے والے Unskilled ( غیر ماہر ) مزدور کو بھی عام طور پر وہی تنخواہ دی جاتی ہے جو ایک درمیانے درجے کے مزدور کوملتی ہے۔ایک بڑے عقلمند اور بڑے ذہین اور بڑی توجہ سے کام کرنے والے کلرک یا کسی کارخانے کے افسر کو جس کی کارکردگی کے نتیجہ میں پیداوار میں معتد بہ اضافہ ہوتا ہے اور آمدنی میں بڑی ترقی ہوتی ہے ایک مقررہ تنخواہ دی جاتی ہے اگر اس کی جگہ کوئی درمیانے درجہ کا افسر آجائے تو اس کو بھی وہی تنخواہ ملے گی جو اس اچھے افسر کو دی جاتی رہی ہے حالانکہ ان دونوں کی حسن کارکردگی میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا اظہار اس قسم کے اندھے ماحول سے پاک ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو نور ہی نور ہے اور وہ تو بصارت اور بصیرت کا منبع اور سرچشمہ ہے اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے اور اس کی تمام صفات کی طرح یہ جزا اور بدلہ دینے کی صفت بھی ہر چیز کی ضرورت کے مطابق جلوہ گر ہوتی ہے۔پس ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ تمہارے اقتصادی نظام میں جب بھی اُجرتوں کی ادائیگی کا سوال پیدا ہو تو اس وقت اس بات کو بھولنا نہیں چاہیے کہ کام کرنے والے ہر مزدور یا کلرک کو، ہر افسر یا