خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 903
خطبات ناصر جلد دوم ۹۰۳ خطبه جمعه ۳/اکتوبر ۱۹۶۹ء کارکنوں کی اُجرت ان کی بہترین کارکردگی کے مطابق معین ہونی چاہیے خطبه جمعه فرموده ۱/۳ کتوبر ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :۔میں نے گزشتہ خطبہ میں بتایا تھا کہ تدبیر اور منصوبہ اور Planning (پلاننگ ) کا وہ حصہ جو انسان کے اختیار میں دیا گیا ہے اور جس کے متعلق یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنتے ہوئے اپنی تدابیر کیا کرو، یا اپنا منصوبہ بنایا کرو۔اس تدبیر کے ساتھ یا اس منصوبہ بندی کے ساتھ تین چیزوں کا تعلق ضروری ہے۔اوّل:۔اعداد وشمار ا کٹھے کرنے کا۔دوم :۔ان اعداد و شمار کے پیش نظر منصوبہ بندی کی تفاصیل طے کرنے کا۔میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں اپنے اس مضمون میں جو اقتصادیات سے تعلق رکھتا ہے ان دو باتوں کے متعلق جو دراصل الدین کے دو معنوں (نویں اور دسویں تقاضے ) پر مشتمل ہیں بیان کیا تھا۔آج اس منصوبہ بندی کی تیسری شق یعنی الدین کے گیارھویں معنے کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں۔الدین کے گیارہویں معنے یہ ہیں کہ جو بھی تدبیر کی جاتی ہے یا جو بھی منصوبہ بنایا جاتا ہے اس کے ایک بڑے حصے کا تعلق جزا اور بدلے سے ہوتا ہے۔پس ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب بھی منصوبہ بندی میں ایسے فیصلے کئے جائیں کہ جن کا تعلق جزا یا بدلہ دینے سے ہو تو اس میں بھی