خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 905
خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ٫۳اکتوبر ۱۹۶۹ء منتظم یا مینجر کو اس کام کی بہترین اُجرت ملنی چاہیے۔تاہم انسان کا علم محدود ہے اور اس کے راستہ میں ہزار روکیں ہیں اور اس نقص اور کمزوری ہی کے نتیجہ میں تنخواہ کا اصول بنایا گیا۔بالعموم کمزوری دو طرح کی ہوتی ہے ایک تو اس لحاظ سے کہ انسان کا علم ناقص ہے ہر چیز انسان کے سامنے نہیں ہوتی اور دوسری کمزوری یہ ہے کہ جو بات اس کے اختیار اور طاقت میں ہے اس میں بھی وہ کمزوری دکھاتا ہے وہ اتنی محنت نہیں کرتا جتنی اسے کرنی چاہیے تھی اور جس کی وہ قدرت رکھتا تھا مثلاً ایک کارخانہ ہے اس میں پانچ سو یا ایک ہزار مزدور کام کر رہا ہے تو اگر اسلامی اصول کو اس میں پوری طرح لاگو کیا جائے تو یہ ضروری ہوگا کہ ایک رجسٹر ہو جس میں ہر مزدور کی کارکردگی درج ہو کیونکہ اس کی مزدوری یعنی اس کے کام ہی نے یا اس کی توجہ اور اس کی محنت ہی نے اس کارخانے کی مجموعی پیداوار پر ایک خاص اور خوشکن اثر ڈالنا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ سارے مزدوروں کا پیداوار میں ایک جیسا حصہ نہیں ہے کیونکہ ہر ایک کی قابلیت اور توجہ کا معیارا لگ الگ ہے ایک مزدور ہے جس میں زیادہ قابلیت ہی نہیں اپنی قابلیت کے لحاظ سے وہ بے شک پوری توجہ بھی دیتا ہے لیکن کم قابلیت ہونے کی وجہ سے وہ اتنا پیدا نہیں کرسکتا نہ پیدا کرتا ہے کہ جتنی پیداوار ایک دوسرے مزدور کی ہے۔پس جب تک پورے حالات سامنے نہ ہوں اس وقت تک یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ کس کو کتنی اُجرت ملے اور پھر یہ بھی کہ ایسی اُجرت بہترین اجرت بھی کہلا سکتی ہے یا نہیں۔ہمارے ہاں اُجرتوں کا جو اصول کارفرما ہے اس کی رو سے شاید مزدور یوں یا اُجرتوں میں فرق کرنا مشکل ہو جائے چنانچہ اس مشکل کو دور کرنے کے لئے انسانی ذہن نے ایک اور راستہ بھی سوچا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم اس راستے کو صحیح اور پورے طور پر اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ کی اس صفت کے جلوے اُجرتوں کی تعیین کے سلسلہ میں ہم اپنی زندگیوں میں دکھا سکتے اور اس طرح ہم بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بن سکتے ہیں اور یہ مزدوروں کو بونس دینے کا رواج ہے۔مختلف کارخانے اپنے مزدوروں کو مختلف شکلوں میں مختلف نسبتوں سے بونس دیتے ہیں لیکن اسلامی اصول ادا ئیگی اُجرت کے مطابق اور یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ ہدایت دی ہے کہ اس کے مطابق اُجرتوں کی تعیین کرنی چاہیے شاید ہی کوئی کا رخا نہ ہو جو عمل کر رہا ہو۔