خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 892 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 892

خطبات ناصر جلد دوم ۸۹۲ خطبہ جمعہ ۲۶ ستمبر ۱۹۶۹ء ذریعہ تم پھاڑ سکتے ہو اور علیحدہ کر سکتے ہو اور پھر ترکیب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق انہیں ایک نئی شکل میں جوڑ سکتے ہو چنانچہ نائیلون وغیرہ کے جتنے کپڑے ہیں یا بہت سے رنگ اور بہت سی جرم کش ادویہ وغیرہ ہیں وہ اسی قانون کے مطابق انسان کو ملیں۔اللہ تعالیٰ خالق ہے اور انسان نے اللہ تعالیٰ کی ہر اس صفت کا مظہر بنا تھا جو ہماری زندگی سے تعلق رکھتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ظلی طور پر اس کے خالق بننے کے سامان پیدا کر دیئے اگر وہ یہ سامان پیدا نہ کرتا تو انسان اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت کا مظہر نہ بنتا اگر اللہ تعالیٰ جو مد بر حقیقی ہے اس کو منصوبہ بنانے کی قوت نہ عطا کرتا تو اس میں اس صفت کا مظہر بننے کی طاقت نہ ہوتی پھر وہ مقصد حاصل نہ ہو سکتا جس مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا تھا کہ وہ اپنی استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنے۔مظہر اتم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے لیکن ہر شخص اپنی اپنی استعداد کے مطابق ذات باری کا مظہر بن سکتا ہے اور مظہر بننے کے جو سامان تھے وہ اللہ تعالیٰ نے عطا کئے ہیں۔غرض مد تر حقیقی تو خدا تعالیٰ ہی ہے لیکن تدبیر کا ایک حصہ اس نے انسان کے سپر د کیا اور کہا کہ اگر تم میرے مدبر ہونے کی صفت کا مظہر بنو تو تم میرے قُرب کو پالو گے کیونکہ ہر قسم کا قرب الہی حقیقہ مظہر صفات باری ہونے کی جھلک ہے مثلاً اللہ تعالیٰ پاک ہے اس لئے جب انسان پاک ہوتا ہے تو اللہ اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ خالق ہے اس لئے جب انسان اپنی خدا دا د طاقتوں کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے قانون کو استعمال کرتے ہوئے ایک شاکر بندہ کی حیثیت میں خلق کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی صفت خالق کا مظہر بن جاتا ہے۔وہ بعض اجزا کا تجزیہ کرتا ہے اور پھر ترکیب کے ذریعہ یعنی ان کو ملا کر نئی شکلیں بنا دیتا ہے اور اس میں نیت یہ ہوتی ہے کہ وہ صفات باری کا مظہر بنے اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت جس رنگ میں ہے اسی طرح اس کی اس صفت کا مظہر بننے کے نتیجہ میں اس کی ربوبیت کے جلوے بھی دنیا دیکھے ، یعنی بنی نوع انسان اس کے نفس میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے جلوے دیکھنے والے ہوں اور اس طرح ان میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے کی رغبت پیدا ہو اور ان کے لئے خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننا آسان ہو جائے کیونکہ جب وہ