خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 893
خطبات ناصر جلد دوم ۸۹۳ خطبہ جمعہ ۲۶ ستمبر ۱۹۶۹ء دیکھیں گے کہ ان جیسا ایک انسان خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر بن گیا ہے تو پھر ہم صفات باری کے مظہر کیوں نہیں بن سکتے۔غرض تدبیر کے اس حصہ کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے سپرد کیا۔اور اس کے متعلق جو اقتصادیات سے تعلق رکھنے والا مضمون تھا وہ میں پہلے پچھلے خطبہ میں بیان کر چکا ہوں۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب تم میری ہدایت کے مطابق اس میدان میں جس میں تمہیں اختیار دیا گیا ہے تدبیر کرو گے اور منصوبے بناؤ گے، پلان (Plan) تیار کرو گے سکیمیں سوچو گے، تو تمہیں تین چیزوں کی ضرورت پڑے گی ایک تو سٹیٹسٹکس (Statistics) یعنی اعدادو شمار تمہارے سامنے ہونے چاہئیں ورنہ تمہارے منصوبہ کی وہ غرض پوری نہیں ہوگی جو میں چاہتا ہوں کہ تمہارے ذریعہ پوری کروں۔پھر جب تم ان اعداد و شمار کو اپنے سامنے رکھو گے تو غور و فکر کر کے تمہیں کچھ فیصلے کرنے پڑیں گے اور تیسرے جب تم کچھ فیصلے کرو گے تو تمہارے بہت سے فیصلے جزا کے طور پر ہوں گے یعنی ان کے نتیجہ میں کسی فرد کو یا کسی گروہ کو بدلہ مل رہا ہو گا۔تمہارے یہ تینوں عمل خالصہ میرے لئے ہونے چاہئیں اور اس غرض سے ہونے چاہئیں کہ میرا رنگ تمہاری صفات پر چڑھے اور تم میری صفات کے مظہر بننے کے قابل ہو جاؤ۔فرمایا جو حساب ہے یعنی اعداد و شمار ہیں وہ خالصہ میرے لئے اکٹھے کئے جائیں اعداد و شمار کو چھپایا نہ جائے ، نہ بد نیتی سے استعمال کیا جائے۔یہ معمولی حکم نہیں ہے بلکہ ایک بڑا اہم حکم ہے کیونکہ ہم اس دنیا میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ جب اعداد و شمار اکٹھے کئے جاتے ہیں تو ان میں انسان ( جو اللہ تعالیٰ کو نہیں پہچانتا ) بڑا دجل بھی کرتا ہے۔مثلاً تنزانیہ (مشرقی افریقہ ) سے جب غیر ملکی عیسائی حکومت جانے لگی تو اس کو پادریوں نے یہ تاثر دیا کہ وہاں عیسائیوں کی اکثریت ہے اور چونکہ ان لوگوں کا دستور یہ ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو سکے اپنے کام خوبصورت شکل میں کرتے ہیں خواہ اندر سے نیت دجل کی ہی کیوں نہ ہو۔اس لئے انہوں نے سوچا کہ بڑی اچھی بات ہے یہاں عیسائیوں کی اکثریت ہے اس لئے جب ہم اس ملک سے جائیں گے تو حکومت عیسائیوں کے سپرد کر دیں گے کیونکہ دنیا میں جمہوریت کا یہی اصول ہے کہ اکثریت کی حکومت ہوا کرتی ہے۔انہوں نے شہریوں کے اعداد و شمار اکٹھے کئے۔سنسز (Census) کے ان اعداد و شمار کے نتیجہ