خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 891
خطبات ناصر جلد دوم ۸۹۱ خطبہ جمعہ ۲۶ ستمبر ۱۹۶۹ء تدبیر کے ایک حصہ کو انسان کے سپر د کیا اور اسی وجہ سے تفاوت پیدا کیا۔کسی کو ایک قسم کی قوتیں اور استعداد میں عطا کیں اور دوسرے کو ایک اور قسم کی قوتیں اور استعداد میں عطا کیں تا تمام بنی نوع انسان ایک دوسرے کی خدمت میں لگے رہیں اور جو حقوق اللہ تعالیٰ نے قائم کئے ہیں ان حقوق کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق قائم کرنے والے ہوں۔اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ساری تدبیر خود ہی کر دیتا جیسا کہ اس نے درختوں کے متعلق ساری تدبیر خود کر دی یا جیسا کہ ہیرے کے بننے میں جو مختلف تو تیں چاہئیں تھیں اور جتنا زمانہ چاہیے تھا اور جتنے دوروں میں سے گزر کر مٹی کے ذروں نے ہیرا بنا تھا یہ سارا انتظام اللہ تعالیٰ نے خود کر دیا۔ہیروں کو اپنی ارتقا کے لئے اور اپنی خصوصیات کو کمال تک پہنچانے کے لئے کسی منصوبہ کے بنانے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ان کے لئے روحانی ترقیات مقدرنہیں تھیں۔یہی حال درختوں اور جانوروں کا ہے۔انسان کے علاوہ ہر مخلوق کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک کامل اور مکمل تدبیر، ایک کامل اور مکمل منصوبہ کہ جس کے کسی حصہ پر بھی ان کا اپنا اختیار نہیں بنا دیا اور اس کے مطابق یہ دنیا چل رہی ہے لیکن انسان کے ساتھ اس نے ایسا سلوک اس لئے نہیں کیا کہ اس کے لئے روحانی ترقیات مقدر تھیں اس نے ان روحانی ترقیات کے حصول کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو پالینے کی خاطر بہت سے کام اپنے اختیار سے کرنے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اشیاء تو سب بنادیں لیکن ان سے کام لینے کی قوتیں اور استعداد میں جو تھیں ان میں تفاوت پیدا کر دیا اور مختلف قوتوں اور استعدادوں کے نتیجہ میں جو پیداوار ہوئی اس کی تقسیم کے لئے خود ہدایت دی اور انسان کو کہا کہ تم میرے حکم سے صاحب اختیار تو ہولیکن میرا یہ بھی حکم ہے کہ اگر تم نے اپنے اس اختیار کو میری ہدایت کے مطابق استعمال نہ کیا تو تم میرے غضب کے نیچے ہو گے اور اگر تم اس اختیار کو جو میں نے تمہیں دیا ہے میری ہدایت کے مطابق استعمال کرو گے تو تم میری رحمت کے سایہ تلے ہو گے اور میری خوشنودی کو تم حاصل کرو گے۔غرض اللہ تعالیٰ نے تدبیر کا ایک حصہ انسان کی روحانی ترقیات کی خاطر اس کے سپر د کیا اور اس کو کہا کہ یہ اشیاء تو میں نے بنادی ہیں اور میں نے تمہیں بہت سی قو تیں بھی عطا کی ہیں۔اب تم اپنے اختیار سے بہت سی ترمیمیں ان اشیاء میں کر سکتے ہو مثلاً میری مخلوق کے اجزا کو تجزیہ کے