خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 781 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 781

خطبات ناصر جلد دوم ۷۸۱ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء خوشنودی کے حصول کے لئے اور دوسرا تکبر اور غرور سے بچنے والا ہو اپنے رب کے قہر اور غضب کے خوف سے۔اللہ تعالیٰ نے یوں مختلف شکلوں میں سہارا دے کر انسان کی اخلاقی اور روحانی قوتوں کو بلند کیا ہے۔پس یہ تفاوت پیدا کر کے ہمیں صاف طور پر بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ جہاں رزاق ہے وہاں وہ مالک بھی ہے جس کو جس قدر چاہتا ہے عطا کرتا ہے اس واسطے اس کی ہدایات کے مطابق رزق کا استعمال ہونا چاہیے۔دوسری جگہ فرمایا کہ زمین و آسمان میں اسی کی تدبیر کارفرما ہے اور انسانی قوتوں کی نشو و نما کے لئے اس کی دوسری تدبیروں کے علاوہ ایک تدبیر یہ بھی ہے کہ اس نے اپنی رحمت سے انسان کو اپنی وحی کے انعام سے سرفراز کیا۔اس کے مطابق ہی انسان آگے ترقی کر سکتا ہے۔یہاں ما لک کہہ کر اسی طرف توجہ دلائی ہے کہ انسان کی سمع اور بصر اور اس کے دل حتی کہ اس کی ہر چیز کا میں ہی مالک ہوں۔اس لئے ہر چیز کو میرے کہنے کے مطابق خرچ کیا جائے جس کا بالآخر یہ خوشکن نتیجہ نکلے گا کہ وہ دنیا جو اقتصادی لحاظ سے غلام بنائی گئی جو اقتصادی لحاظ سے ہلاکت کے گڑھے میں پھینکی گئی اور جو اقتصادی لحاظ سے موت کے منہ میں پڑی ہوئی ہے اسے ہمارے اس اقتصادی نظام کے قیام کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے خوشحال اقتصادی زندگی نصیب ہوگی۔چنانچہ میرے پاس جو بھی دوست آتے ہیں میں تو ان سے کہا کرتا ہوں کدھر بھاگے پھرتے ہو تم Minimum Necessities of Life ( کم سے کم ضروریات زندگی ) کی باتیں کرتے ہو یعنی یہ کہ ہر ایک کو کم سے کم ضروریات زندگی بہر حال میتر آنی چاہئیں۔لیکن تم اس نظام زندگی کی طرف پیٹھ کر کے کھڑے ہو جو کہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ انسانی ضروریات جو ہیں وہ بہر حال پوری ہونی چاہئیں۔اسلام کے اقتصادی نظام میں کم سے کم کا کوئی تصور پایا ہی نہیں جاتا۔بلکہ زیادہ سے زیادہ دینے اور دلانے کی ہدایت موجود ہے یعنی جو چیز انسانی قوتوں کی نشو ونما کو کمال تک پہنچانے میں ممد و معاون ہے وہ اسے بہر حال زیادہ سے زیادہ میٹر آنی چاہیے صرف Basic Necessities of Life ( زندگی کی بنیادی ضروریات مہیا کر نا یا نیم مردہ اور نیم زندہ رکھنا یا محض زندہ رکھنا اور مرنے سے بچالینا یہ تو کوئی بات نہیں حالانکہ یہی جسمانی طاقت تو