خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 782
خطبات ناصر جلد دوم ۷۸۲ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء ایک مومن کے روحانی ارتقا میں ممد و معاون بنتی ہے جیسا کہ مقولہ مشہور ہے کہ روح تو بلند پروازی کی بڑی خواہش رکھتی ہے لیکن جسم ساتھ نہیں دے رہا جسم اس بلند پروازی کا متحمل نہیں یہ بات ٹھیک بھی ہے مثلاً ایک آدمی بیمار ہے وہ کھانسی کی تکلیف کی وجہ سے رات گئے تک کھانستا رہتا ہے رات کے دو بجے تہجد پڑھنے کے لئے اٹھنا اس کے لئے ممکن ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ اس کو معاف تو کر دے گا لیکن معافی اور چیز ہے اور تہجد کا انعام ملنا اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔خطبہ کافی لمبا ہو گیا ہے اور واپس بھی جانا ہے اس لئے باوجود اس کے کہ مجھے دوستوں سے ملنے کی زبردست خواہش تھی میں اس وقت ملاقات سے معذور ہوں۔آپ کو بعد میں کسی جمعہ کے دن یا کسی اور موقع پر ملاقات کا وقت انشاء اللہ ضرور دوں گا کیونکہ آپس میں باتیں کرنا اور مشورے لینا جماعتی زندگی کے لئے بڑی ہی ضروری بات ہے البتہ یہ ضروری نہیں کہ ایک خاص بات کو سامنے رکھ کر مشورہ ہو ہزار قسم کی باتیں ہیں جن کا آپس میں ملنے ہی سے پتہ لگتا ہے دوست جب مجھ سے ملنے آتے ہیں ایک دوسرے کی سننے اور سنانے سے مجھے بہت سی نئی نئی باتوں کا علم ہوتا رہتا ہے۔حالات و واقعات کے مختلف پہلو سامنے آتے رہتے ہیں۔دوستوں کی انفرادی اور خاندانی مشکلات سامنے آتی ہیں تو دعا کے لئے تحریک ہوتی ہے۔یہاں مسجد میں زیادہ لمبی باتیں ویسے بھی نہیں ہو سکتیں اس لئے اُمید رکھتا ہوں کہ آپ مجھے معاف کریں گے اور اجازت دیں گے کہ نماز پڑھانے کے بعد واپس چلا جاؤں اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو انشاء اللہ تعالیٰ پھر ملیں گے۔روزنامه الفضل ربوه۲۹ /اکتوبر ۱۹۶۹ ء صفحه ۲ تا ۹)