خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 780 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 780

خطبات ناصر جلد دوم ۷۸۰ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء کسی کی اپنی یا اس کے بچوں یا دوسرے Dependents ( متوسلین) کی جتنی اور جس قدر قوتیں اور استعداد میں ہیں ان کی صحیح اور کامل نشو و نما کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہے وہ ان کا اپنا حق ہے دنیا کی کوئی طاقت ان سے اس حق کو چھین نہیں سکتی۔لیکن جو چیز ان کی ضرورت سے زائد ہے وہ دراصل ان کی نہیں بلکہ کسی دوسرے کی ہے اس لئے جو چیز زائد ہے اسے شراب میں اسے جوئے میں ، اسے سٹے میں ، اسے گھوڑ دوڑ میں ، اسے جوئے کی مشینوں میں مت لگاؤ (شیطان نے اب جوئے کی ہزار شکلیں بنادی ہیں۔بعض ملکوں میں ہرگلی کے کونے پر مجوئے کی مشینیں لگ گئی ہیں جس کی وجہ سے جوا کھیلنے کے لئے دوسرے ساتھی کی ضرورت نہیں رہی۔اس کی جگہ لو ہے سے کام لے لیا گیا ہے اور لوگ جوا کھیلنے کی urge خواہش کو وہیں جا کر پورا کر لیتے ہیں ) اسلام کا اقتصادی نظام کہتا ہے کہ میں نے یہ چیزیں تیرے لئے پیدا نہیں کیں تیرے قومی کی نشوونما میں ان چیزوں کا کوئی حصہ نہیں۔اس واسطے تو ان چیزوں پر خرچ نہیں کرسکتا۔پس امیر کے جائز حق کو تو قائم کیا لیکن دوسروں کی حق تلفی کی اسے اجازت نہیں دی۔پس اسلام کے اقتصادی نظام نے انسانی ضرورت کی بڑی واضح اور معین تعریف کر دی ہے کہ انسان کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی قوتوں کی نشوونما کے لئے جس چیز کی جس قدر ضرورت ہے وہ اس کا حق ہے اور وہ چیز اس سے چھینی نہیں جائے گی۔لیکن جو چیز اس کی ضرورت سے زائد ہے اور اس کی قوتوں کی نشو ونما کے لئے اس کی ضرورت نہیں وہ دراصل اس کی نہیں بلکہ کسی اور کی ہے جس کو قو تیں تو عطا ہوئیں لیکن ان کی نشو و نما کے لئے سامان میسر نہیں آئے ظاہر ہے اگر واقعی ہم خالق کل اور رب العلمین پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمیں اس کی صفات کا عرفان حاصل ہے تو پھر اس نظام کے سمجھنے میں کوئی ابہام اور الجھن باقی نہیں رہتی۔کیسا حکیمانہ نظام ہے کہ ایک شخص کو کہا کہ جتنی قوتیں تجھے بخشی ہیں ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے سامان تمہیں عطا کر دیئے ہیں۔دوسرے سے کہا کہ جتنی قوتیں تجھے عطا کی ہیں ان سے کما حقہ فائدہ اُٹھانے کے لئے تجھے پورے سامان میسر نہیں آئے۔یہ تفاوت اس لئے پیدا کیا ہے کہ اس طرح تمہاری اخلاقی اور روحانی قوتوں کی نشوونما کے سامان پیدا ہوں۔ایک قربانی دینے والا ہو اپنے رب کی